ویب ڈیسک :عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو بھی کمی کا سلسلہ جاری رہا اور قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ گئیں،اس پیشرفت کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں پھنسی ہوئی آئل ٹینکروں کی روانگی اور امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے ابتدائی معاہدے کے بعد سپلائی کے خدشات میں کمی بتائی جا رہی ہے۔
برینٹ خام تیل 40 سینٹ یا 0.54 فیصد کمی کے بعد 72.55ڈالر فی بیرل پر آ گیا جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 27 سینٹ یا 0.38 فیصد گر کر 69.37 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا،امارتی مربن آئل کی قیمت 66.45 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق اگست کے برینٹ معاہدے کی قیمت ستمبر کے معاہدے سے کم ہونے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ قلیل مدت میں تیل کی فراہمی وافر مقدار میں دستیاب ہے۔
مالیاتی ادارے آئی جی (IG) کے تجزیہ کار ٹونی سائکامور کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی سپلائی کی تیز رفتار بحالی نے مارکیٹ کو حیران کر دیا ہے، کیونکہ سرمایہ کار توقع سے کہیں زیادہ جلد معمولات کی واپسی کو قیمتوں میں شامل کر رہے ہیں،بدھ کے روز بھی برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں کی قیمتوں میں تقریباً 3 ڈالر فی بیرل کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے ایک فورم سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل تقریباً جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ چکی ہے اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2 کروڑ بیرل سے زائد تیل آبنائے سے گزر چکا ہے تاہم انہوں نے کہا کہ مکمل معمولات کی بحالی میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں کیونکہ سمندری راستوں کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنا ضروری ہے۔
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان گزشتہ ہفتے ہونے والے ابتدائی معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک دوبارہ شروع ہو گئی ہے معاہدے کے تحت آئندہ 60 روز تک ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم معاملات پر مذاکرات جاری رہیں گے۔
دوسری جانب عمان نے آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکروں کی روانگی آسان بنانے کے لیے عارضی بحری راستے کھول دیے ہیں، جبکہ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن اور عمانی حکام بحری نقل و حرکت کو مربوط بنانے میں مصروف ہیں۔
ادھر امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکہ میں خام تیل کے ذخائر 1984 کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گئے، تاہم تاجروں کی توجہ ذخائر کے بجائے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مرکوز رہی، جس کے باعث اس خبر کا قیمتوں پر نمایاں اثر نہیں پڑا۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق کل جمعہ کے روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 58 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 45 روپے فی لیٹر تک کمی کی تجویز ہے، اس کمی کے بعد پیٹرول 241 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 266 روپے فی لیٹر مقرر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حتمی قیمتوں کا اعلان کل وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔