ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاپتہ لڑکی سے عاشق کےبعد ہوٹل مالکان اور اسپا سینٹر والوں کی درندگی

لاپتہ لڑکی سے عاشق کےبعد ہوٹل مالکان اور اسپا سینٹر والوں کی درندگی
کیپشن: علامتی تصویر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست اترپردیش کے شہر گورکھپور کے وکاس نگر علاقے کی رہنے والی   15 سے 19 سے لاپتہ 14 سالہ نابالغ لڑکی  کو پولیس نے بازیاب کر لیا ہے، مگر اس کے ساتھ ہونے والی درندگی کی داستان سن کر خود پولیس افسران کے بھی رونگٹے کھڑے ہو گئے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق اتر پردیش کے ضلع گورکھپور سے ایک ایسا دل دہلادینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے انسانیت کو شرمسار کر دیا ہے۔ گورکھپور کے وکاس نگر علاقے کی رہنے والی 14 سالہ نابالغ لڑکی، جو گزشتہ 15 سے 19 دنوں سے لاپتہ تھی، کو پولیس نے تو بازیاب کر لیا ہے، مگر اس کے ساتھ ہونے والی درندگی کی داستان سن کر خود پولیس افسران کے بھی رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ لڑکی کے ساتھ نہ صرف اس کے مبینہ عاشق نے بھروسہ توڑا بلکہ ہوٹل مالکان اور اسپا سینٹر کے منتظمین نے ملکر اسے ہوس کا نشانہ بنایا اور جسم فروشی کے دلدل میں دھکیل دیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ اس معاملے کی ابتدا 5 جنوری کو ہوئی، جب لڑکی کے والدین نے گورکش ناتھ تھانے میں اپنی بیٹی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔ والدین پولیس کے بھروسے پر بیٹھے رہے، لیکن پولیس کو لڑکی تک پہنچنے میں تقریباً 19 دن لگ گئے۔20 جنوری کو پولیس کو لڑکی کی لوکیشن کے بارے میں مصدقہ معلومات ملیں، جس کے بعد اسے نوسڑھ میں واقع ایک ہوٹل سے برآمد کیا گیا۔  برآمدگی کے بعد جب لڑکی نے اپنی آپ بیتی سنائی تو پورا معاملہ ایک منظم جرم اور جسم فروشی کے ریکیٹ کی طرف اشارہ کرنے لگا۔
متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ وہ گزشتہ 6ماہ سے شاہ پور علاقے کے رہنے والے ایک لڑکے کے رابطے میں تھی۔ 5 جنوری کو وہ اسی کے ساتھ گھر سے نکلی تھی۔ مبینہ طور پر وہ لڑکا اسے گورکھپور کے گِیڈا تھانہ علاقے کے ایک ہوٹل میں لے گیا۔لڑکے پر الزام ہے کہ وہاں اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ ملکر لڑکی کو 3 دنوں تک قید رکھا اور اس کے ساتھ مسلسل اجتماعی زیادتی کی۔ تین دن بعد، جب اس کا دل بھر گیا تو وہ لڑکی کو وہیں بے سہارا چھوڑ کر فرار ہو گیا۔لڑکی کی مشکلات یہیں ختم نہیں ہوئیں۔ ہوٹل میں اکیلی لڑکی کو دیکھ کر ہوٹل مالک ابھے سنگھ اور منیجر آدرش پانڈے نے بھی اس کے ساتھ غلط حرکت کی۔ انہوں نے لڑکی کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی آبروریزی کی۔ اس کے بعد دونوں نے مل کر لڑکی کو بڑہل گنج کے ایک اسپا سینٹر کو فروخت کر دیا

اسپا سینٹر کے منیجر نے بھی لڑکی کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔لڑکی نے بتایا کہ مسلسل ہونیوالی درندگی اور زبردستی کے باعث جب اسکی طبیعت بگڑنے لگی تو ملزمان اسے دوائیں کھلاتے تھے اور دواؤں کے نشے کی حالت میں بھی اس کے ساتھ زیادتی کرتے رہے۔ بعد میں اسے نوسڑھ کے ایک ہوٹل میں چھپا کر رکھا گیا، جہاں سے پولیس نے اسے بازیاب کیا۔

مقامی پولیس انسپکٹر کے مطابق کہ لڑکی کی برآمدگی کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اب تک 4 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں آدرش پانڈے (ہوٹل منیجر)، ابھے سنگھ (ہوٹل مالک)، انکت (اسپا سینٹر منیجر) اور مبینہ عاشق (جسے دیر رات حراست میں لیا گیا) شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق  گورکھپور شہر کے مضافاتی علاقوں اور ہائی وے پر  ایسے کئی ہوٹل اور اسپا سینٹر دھڑلے سے چل رہے ہیں جو جسم فروشی کے اڈے بن چکے ہیں۔