ملک اشرف:لاہور ہائی کورٹ میں چار سال قبل اغوا ہونے والی لڑکی کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے آئی جی پولیس کو مغوی لڑکی کی بازیابی کیلئے3 مارچ تک مہلت دیدی۔
بچی کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت عالیہ نیلم چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے سائلہ سلمیٰ بی بی کی درخواست پر کی۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان، ڈی آئی جی لیگل ملک اویس احمد، ریجنل آفیسر آفتاب پھلروان اور دیگر پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے۔
اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمر نے آئی جی پولیس کی جانب سے مغوی بچی کی بازیابی سے متعلق رپورٹ پیش کی اور عدالت کو آگاہ کیا کہ تفتیش تبدیل کر دی گئی ہے اور ریکوری کیلئے اسپیشل ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ نئی تفتیشی ٹیم میں آئی بی سمیت دیگر اداروں کو بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ چہرے کی شناخت کیلئے نادرا کو بھی خط لکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پرانے تفتیشی افسران کو معطل کر دیا گیا ہے اور سوشل میڈیا، "ہمارا پاکستان" ایپ اور دیگر ذرائع سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پیش کردہ رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ “تاریخ جب نزدیک آتی ہے تو پھر آپ کو مغوی کی بازیابی یاد آ جاتی ہے۔” انہوں نے کہا کہ معطلی مسئلے کا حل نہیں اور استفسار کیا کہ آئی جی پنجاب خود عدالت میں کیوں پیش نہیں ہوئے۔ لاء افسر نے بتایا کہ وہ بھکر میں پولیس اہلکاروں پر حملے کے بعد جنازے میں شرکت کیلئے گئے ہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس وقت تفتیش کس کے پاس ہے، جس پر بتایا گیا کہ کیس سی سی ڈی کے پاس ہے۔ چیف جسٹس نے سی سی ڈی کو آئندہ سماعت تک بچی کی بازیابی یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے آئی جی پولیس کو 3 مارچ تک مہلت دی اور مثبت پیش رفت رپورٹ طلب کر لی۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 3 مارچ تک ملتوی کر دی۔