سٹی42: پاکستان میں گھروں کو سپلائی کی جا رہی قدرتی گیس بیٹھے بٹھائے مہنگی ہونے کی ایک روح فرسا وجہ یہ سامنے آئی کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز کمپنی مہنگی ایل این جی امپورٹ کرنے کے لئے پاکستان کے اندر گیس فیلڈز بند کئے بیٹھی ہے۔
پاکستان کے نیچرل گیس کے اداروں میں بدنظمی کی بہتات اور منصوبہ بندی کے فقدان کا یہ عالم ہے کہ ادارے گیس امپورٹ بھی کر رہے ہیں اور ملک کے اندر پیدا ہونے والی گیس کو فاضل ہو جانے کی صورت میں سٹور کرنے کی بجائے گیس فیلڈ ہی بند کر ڈالتے ہیں۔
سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر نے اعتراف کیا ہے کہ گیس اسٹوریج سہولت نہ ہونے سے گیس فیلڈز بند کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے عذر پیش کیا کہ ہمارے پاس گیس فیلڈز بند کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
یہ اہم انکشاف سوئی ناردرن گیس کمپنی کے مینیجنگ ڈٓئریکتر نے اس وقت کیا جب سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی نے انہیں وضاحت کے لئے طلب کیا۔ سینیٹ سٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس مین بریفنگ دینا پڑی تو ایم دی نے بتایا کہ ہر ماہ 10 ایل این جی کارگو کی آمد اور ملک میں گیس کی سٹوریج سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ملک کی گیس فیلڈز بند کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کو بریفنگ دیتے ہوئے ایم ڈی نے بتایا کہ قطر اور ای این آئی کے ساتھ 2031 تک ہونے والے معاہدوں کے تحت ہر ماہ 10 کارگو آتے ہیں اور انہیں 2 یا 3 دن سے زیادہ مؤخر نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے بتایا کہ گیس پاور سیکٹر کے لیے درآمد کی جا رہی تھی۔ بعد میں کوئلہ اور نیوکلیئر پاور پلانٹس چلگئے، اس لیے فیلڈ بند کرنے کے علاوہ آپشن نہیں۔
پاک ایران گیس پائپ لائن سے متعلق سیکرٹری پیٹرولیم نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعظم نے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ٹاسک دیا ہے، گیس امپورٹ پر پابندی نہیں، پائپ بچھانے پر پابندی ہے۔
سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ نے اوگرا پر دباؤ ڈال کر گھریلو صارفین کے لئے گیس بے تحاشا مہنگی کر دی ہے۔ کمپنی کی جانب سے اپنی تمام بد نظمیوں کا بوجھ اخرایات کی مد میں صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔ اس وقت کوئی صارف اپنے گیس کنکشن سے ایک کیوبک ملی میٹر بھی گیس استعمال نہ کرے تب بھی اسے محض کنکشن رکھنے کی بنا پر سوا نو سو روپے ماہانہ بل ادا کرنا پڑتا ہے جس مین حتیٰ کہ جنرل سیلز ٹیکس بھی شامل کیا گیا ہوتا ہے، کسی شے کی فروخت کی نوبت آئے بغیر جنرل سیلز ٹیکس وصول کر لینے والی کمپنی کی دوسری جانب حالت یہ ہے کہ ملک کے اندر پیدا ہونے والی سستی گیس کو نکال کر سستے داموں فروخت کرنے کی بجائے بیرون ملک سے مہنگی ایل این جی اپمورٹ کرتی ہے اور اس کے اخڑاجات بھی شہریوں کو ہی ادا کرنے پر مجبور کرتی ہے۔