سٹی42: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکہ کی 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' کی حکمت عملی کو بے نتیجہ قرار دیتے ہوئےمسترد کر دیا۔
ایران کے وزیر خارجہ نے امریکہ کے ساتھ براہ راست بات چیت کو مسترد کر دیا ۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ جب تک کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اپنی "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی حکمت عملی کو برقرار رکھتی ہے، ایران کی امریکہ سے براہ راست بات چیت کا کوئی امکان نہیں۔
اس سے پہلے اطلاعات آ رہی تھیں کہ امریکہ ایران پر دباؤ زیادہ سے زیادہ برھا رہا ہے۔امریکہ نے ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر تے ہوئے ایرانی تیل کی فروخت اور جوہری پروگرام کو نئی پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔
امریکی محکمۂ خزانہ اور محکمۂ خارجہ نے ایران کی تیل کی برآمدات کو نشانہ بناتے ہوئے 30 سے زائد افراد اور جہازوں پر پابندیاں لگا ئیں۔
امریکہ کی نئی پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ متحدہ عرب امارات ، چین، بھارت، ہانگ کانگ، ملائیشیا اور سیشلز شامل ہیں۔
اب امریکہ کا کہنا ہے کہ جو بھی ایرانی تیل کے کاروبار میں ملوث ہو گا، اسے سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
الجزیرہ نیوز نے اپنے ایک تجزیہ میں سوال اٹھایا تھا کہ میز پر 'زیادہ سے زیادہ دباؤ' کے ساتھ، ایران آگے کیا کرے گا اور گرتی ہوئی معیشت اور اتحادیوں کی ختم ہوتی جا رہی فہرست کا سامنا کرتے ہوئے، ایران کی قیادت اپنے چیلنجوں سے کیسے نمٹے گی؟
الجزیرہ نیوز کا کہنا تھا کہ ایران کو اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر ہایک بدلے ہوئے مشرق وسطی کا سامنا ہے۔ کمزور اتحادیوں اور اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کے ساتھ، ایران کی قیادت آنے والے سال سے کیسے رجوع کرے گی۔
عباس عراقچی کا جواب
ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا، جب تک ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف اپنی "زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی حکمت عملی کا اطلاق جاری رکھے گی تب تک تہران اور واشنگٹن کے درمیان "براہ راست مذاکرات کا کوئی امکان نہیں”۔
عراقچی نے روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ جوہری مذاکرات کے حوالے سے ایران کا موقف واضح ہے اور ہم دباؤ اور پابندیوں کے تحت مذاکرات نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا کوئی امکان نہیں جب تک اس طرح زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا جائے گا۔
اسی دوران تہران سے جاری کئے گیے ایک بیان میں ایران نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اپنے ایٹمی پروگرام کا دفاع ہر صورت میں کیا جائے گا۔
ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کا دفاع کیا ہے اور وہ اس دفاع کو جاری رکھنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوگا۔