(ویب ڈیسک)بھارت میں ایک مسلمان کھلاڑی نے 32 گیندوں میں سنچری بنا کر ریکارڈ بُک میں نام درج کروا لیا، بہار کے کپتان ثاقب الغنی نے وجےہزارےٹرافی میں طوفانی باری کھیلی ۔انھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں تیز ترین سنچری بنا کر ریکارڈ قائم کیا۔ ثاقب الغنی بھارت کے مشہوربلے باز وریندر سہواگ کے مداح ہیں ۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق ریاست بہار کے کے شہر موتیہاری سے تعلق رکھنے والے ثاقب الغنی نے32 گیندوں میں سنچری بنائی ۔بدھ کا دن ڈومیسٹک کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وجے ہزارے ٹرافی 2025-26 کے پہلے ہی دن بہت سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ بہار کے ثاقب الغنی نے مردوں کی لسٹ اے کرکٹ میں بھارت کی طرف سے تیز ترین سنچری اسکور کی۔انھوں صرف 32 گیندوں میں یہ سنگ میل عبور کیا۔ کچھ ہی دیر بعد ایشان کشن نے 33 گیندوں میں سنچری بنا کر دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اس سے پہلے، ویبھو سوریاونشی نے 84 گیندوں پر 190 رن بنا کر دن کو مزید خاص بنا دیا۔ ایک بھارتی بلے باز کی طرف سے تین تیز ترین لسٹ اے سنچریاں ایک ہی دن احمد آباد اور رانچی کے میدانوں پر بنائی گئیں۔
لسٹ اے کرکٹ کے اس تاریخی دن کے سب سے بڑے ہیرو ثاقب الغنی رہے۔ بہار کے26 سالہ کپتان، پہلے ہی ریکارڈ بک میں درج ہو چکے ہیں۔ 2021-22 رانجی ٹرافی میں، انھوں نے اپنے پہلے ہی فرسٹ کلاس میچ میں 341 رن بنا کر تاریخ رقم کی تھی۔ وہ اپنے فرسٹ کلاس ڈیبیو پر ٹرپل سنچری بنانے والے دنیا کے پہلے کرکٹر بنے۔ اس اننگز کے ساتھ انہوں نے مدھیہ پردیش کے اجے روہیرا کا ریکارڈ توڑ دیا۔ ثاقب الغنی کا یہ سفر آسان نہیں تھا۔ وہ 2 ستمبر 1999 کو بہار کے مشرقی چمپارن ضلع کے موتیہاری شہر کے اگروا محلہ میں پیدا ہوئے۔ جہاں کرکٹ کا میدان نہیں ہے۔ ثاقب الغنی نے کھیتوں میں، گاندھی میدان میں اور کبھی بلب کی روشنی میں کرکٹ کھیلنا سیکھا۔ ان کے والد محمد منان غنی ایک کسان ہیں اور مینا بازار میں اسپورٹس کے اشیاءکی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے ہیں۔ خاندان کی اقتصادی حالت اچھی نہیں تھی۔
ثاقب کےکرکٹ کے جنون کے لیےخاندان نے کئی بار اپنی زمین گروی رکھی، انکی والدہ نے اپنے زیورات بھی بیچ ڈالے۔ ثاقب کے والد چاہتے تھے کہ وہ پڑھیں، لیکن بعد میں بیٹےکی ضد کے آگے وہ ہار گئے۔ اس سفر میں ثاقب کا بڑا بھائی فیصل غنی ایک مضبوط سہارا ثابت ہوا۔ فیصل خود ایک سابق کرکٹر تھے اور بہار انڈر 19 اور یونیورسٹی کی سطح پر کھیل چکے تھے۔ وہ اپنا خواب پورا نہیں کرسکے، لیکن انھوں نے چھوٹے بھائی رہنمائی کی ۔ فیصل نے ہی خاندان کو راضی کیا، رشتہ داروں سے پیسے اکٹھے کیے اور ان کے گھر کے قریب پریکٹس پچ بنائی۔
یاد رہے کہ اپنے رانجی ٹرافی ڈیبیو پر 341 رن کی اننگز کے بعد موتیہاری کے اگروا محلے میں تہوار کا ماحول تھا، اسکے گھر پر مبارکباد کی کالیں آنے لگیں۔ ثاقب کی کامیابی نے علاقے کے بہت سے بچوں کو کرکٹ کا خواب دیکھنے کی ترغیب دی ہے۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ اگر بہتر سہولیات فراہم کی جائیں تو یہاں سے اور بھی بہت سے کھلاڑی ابھر سکتے ہیں۔ثاقب ، وریندر سہواگ کو اپنا آئیڈیل مانتے ہیں۔ اس کا بیٹنگ منتر ہے ’گیند کو دیکھو اور مارو۔‘ یہ انداز ان کی دھماکہ خیزبلے بازی کا خاصہ ہے۔ ثاقب کا کہنا ہے کہ ریکارڈ ان کے ذہن میں نہیں ہوتا۔ اس کی توجہ صرف ٹیم کے لیے زیادہ سے زیادہ رن بنانے پر ہے۔آج ثاقب الغنی نہ صرف بہار بلکہ پورے بھارت میں ایک ابھرتا ہوا ستارہ بن چکے ہیں۔ محدود وسائل، مالی مشکلات اور جدوجہد کے باوجود انکا سفر لاکھوں نوجوانوں کے لیے تحریک ہے۔