سٹی 42:چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے داہگل ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا میری اطلاع کے مطابق بانی کو اسپتال منتقل کرنے کا پلان آخری لمحے میں تبدیل ہوا
اگر ایسا نہ ہوتا تو ہم کافی آگے جا چکے تھے۔ہماری کوششوں پر پانی ڈالا گیا،اگر بانی کا شفا میں علاج ہو جاتا تو بہت اچھا ہو جاتا۔میں مایوس نہیں ہوں کوششیں دوبارہ کروں گا،رابطے نہیں چھوڑا کرتے۔
ابھی تک جتنی بات چیت ہوئی تھی وی صرف بانی کی صحت کے حوالے سے تھی ۔یونیورسٹی میں پیش آنے والا واقعہ افسوسناک ہے ۔یونیفارم پہنے شخص کا بھی خاندان اور عزت نفس ہے ،
وردی پہنے شخص پر حملہ کرنا اور وردی پر ہاتھ ڈالنا افسوسناک ہے۔میں اسکی مذمت کرتا ہوں،مجھے یونیورسٹی کے مناظر دیکھ کر دلی افسوس ہوا۔میری اور بانی کی ملاقات کے حوالے سے جو سی سی ٹی وی گردش کر رہی ہے وہ جعلی ہے ۔
بانی کی صحت پر سیاست اور بیان بازی نہیں ہونی چاہیئے۔سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد ہونا چاہئے تھا ۔بانی کا علاج سیدھا معاملہ تھا جس نے بھی روکا اچھا نہیں کیا۔جس نے بھی آخری لمحے پر بانی کو اسپتال منتقل کرنے کا پلان تبدیل کیا غلط کیا۔ہمارا رابطہ تھا،رابطے ہوتے ہیں،اعظم نذیر تارڑ بھی کہا تھا کہ ہماری بات ہوئی تھی
بانی کے حوالے سے ہمیں بھی سیکورٹی خدشات تھے۔حکومت نے ہمیں کبھی بھی نہیں بتایا کہ شفاء اسپتال منتقلی حوالے دے سیکورٹی خدشات ہیں
ہم نے کور اور سیاسی کمیٹی اعلامیہ کے ذریعے واضح کر دیا تھا کہ کوئی شفاء اسپتال نہ جائے ۔بانی کو شفاء کی بجائے پمز لے گئے وہاں بھی وہ علاج نہیں کیا گیا جو ضروری تھا
سپریم کورٹ کے حکم پر آج بھی عمل ہو سکتا ہے،اگر سننے والے سن رہے ہیں ۔سپریم کورٹ میں ہامری پٹیشن پر نمبر لگ گیا یے ہم نے جلد سماعت کی بھی درخواست کی ہے۔متحدہ اپوزیشن اب قومی اسمبلی اور سینٹ میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے گے۔عوامی مسائل اجاگر اور حکومت کااحتساب کریں۔ ہم نے سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی نہیں کی نہ ایسا کہا ہے ۔
بانی کی ایک بہن نے بات ضرور کی جسمیں بتایا کہ انکو پمز لے جایا گیا ۔ہماری توہین عدالت کی درخواست سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کی ہے،یہ سول توہین عدالت ہے
بانی سے گزشتہ منگل ہونے والی ملاقات پر نورین نیازی خوش تھیں۔ہمارے لئے بانی کی صحت اور سیکورٹی اہم ہے۔اس وقت اپوزیشن جماعتوں کا متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔عدلیہ،الیکشن کمیشن اور صوبائی معاملات پر اصلاحات کی ضرورت ہے۔