سٹی42: دہلی ہائی کورٹ نے بھارت کے پرائم منسٹر نریندر مودی کی ڈگری پر سی آئی سی کے حکم کو معطل کر دیا۔ نریندر مودی کی تعلیمی قابلیت کی اصلیت جاننے کی کوشش دس سال سے جاری ہے لیکن رکاوٹیں ختم ہونے میں نہیں آ رہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی گریجویشن ڈگری سے متعلق جانکاری ظاہر کرنے کے معاملے کو عدالت نے آج نمٹا دیا۔ سنٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) نے نریندر مودی کی مبینہ طور پر دہلی یونی ورسٹی سے ملی ڈگری کی معلومات پبلک کے سامنے ظاہر کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن دہلی ہائی کورٹ نے اس حکم کو رَد کر دیا ہے۔ دہلی یونیورسٹی نے سی آئی سی کے حکم کو چیلنج پیش کیا تھا، اور اسی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ نے یہ حکم صادر کیا ہے۔ سی آئی سی کا یہ حکم 2016 سے لٹکا ہوا ہے۔
بھارت کے میڈیا میں آج یہ رپورٹ نمایاں کر کے شائع کی گئی کہ دہلی ہائی کورٹ نے سنٹرل انفارمیشن کمیشن (CIC) کے 2016 کے اس حکم کو رد کر دیا ہے جس میں دہلی یونیورسٹی (DU) کو وزیر اعظم نریندر مودی کے بیچلر ڈگری کے ریکارڈ کو ظاہر کرنے کی ہدایت کی گئی تھی- اس ریکارڈ میں میں 198 میں بی اے بی اے کا امتحان پاس کرنے والے طلباء کے نام، رول نمبر اور حاصل کردہ نمبر شامل تھے۔
آج دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس سچن دتا نے فیصلہ دیا کہ یہ معلومات ذاتی ڈیٹا کے زمرہ میں شمار کئے جانے کی اہل ہیں اور آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت حاسل "رازداری کی چھوٹ" کے تحت اس وقت تک محفوظ ہیں جب تک کہ مفاد عامہ کی بالادستی کو ثابت نہ کر دیا جائے۔
سی آئی سی کی 2016 میں نریندر مودی کی ڈگری کی حقیقت جاننے کے لئے جاری کی گئی ہدایت کو حد سے تجاوز قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کرتے ہوئے، عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ دہلی یونیورسٹی DU کے پاس اس طرح کے تعلیمی اعداد و شمار ایک قابلِ اعتماد ادارہ کی حیثیت میں موجود ہیں، اور ان معلومات کی زبردستی وجوہات کے بغیر عوامی جانچ کا جواز نہیں ہے۔
جج سچن دتہ کے حکم کے مطابق تعلیمی ریکارڈ اور ڈگری کا انکشاف کرنا لازمی نہیں ہے۔ پی ایم مودی کے اکیڈمک ریکارڈ کے انکشاف سے متعلق یہ قانونی جنگ سالوں سے چل رہی تھی۔ آر ٹی آئی کے تحت درخواست داخل کرنے کے بعد سی آئی سی نے 1978 میں بی اے کا امتحان پاس کرنے والے سبھی طلبا کے ریکارڈ کے جائزہ کی اجازت 21 دسمبر 2016 کو دی تھی۔ پی ایم مودی نے بھی یہ امتحان پاس کیا تھا۔
اس مقدمہ میں پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے دہلی یونیورسٹی کی نمائندگی کرنے والے دلیل دی کہ پرائیویسی اور بھروسے کے اصول "محض تجسس" سے بالاتر ہیں، جب کہ آر ٹی آئی درخواست گزار کے وکیل نے اس طرح کی تفصیلات کو پھیلانے کی عوامی روایت کا حوالہ دیا۔
بالآخر، عدالت نے اس تناظر میں " شفافیت" پر انفرادی رازداری کے حق میں توازن کی توثیق کی۔
نریندر مودی کی بی اے کی47 سال پرانی ڈگری؛ پس منظر کا سیاق و سباق
نریندر مودی کی ڈگری پبلک کے سامنے لانے کا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب ایک کارکن نیرج شرما نے 2015 میں ایک آر ٹی آئی درخواست دائر کی جس میں 1978 کے تمام بی اے گریجویٹوں کے لیے دہلی یونیورسٹی کے ریکارڈ طلب کیے گئے—مودی کے بیان کے مطابق یہ ان کی دہلی یونیورسٹی سے گریجویشن کا سال تھا۔
دہلی یونیورسٹی نے پراسرار انداز سے "رازداری' کا مطالبہ کرتے ہوئے مودی اور دوسرے سٹوڈنتس کی ڈگریوں کی تفصیل بتانے سے انکار کر دیا۔ CIC نے 2016 میں دہلی یونیورسٹی کو 1978 کے گریجویٹس کی فہرست، ان کی ڈگریوں کی تفصیل پبلک کے سامنےلانے کا حکم دیا؛ دہلی یونیورسٹی نے حکم پر عمل نہیں کیا اور ، جنوری 2017 میں اس حکم کو چیلنج کیا۔
یہ معاملہ "جاننے کے حق" اور "رازداری کے حق" کے درمیان وسیع تر تناؤ کو ظاہر کرتا ہے۔اب دہلی ہائی کورٹ کے جج کے فیصلے میں اس بات کی توثیق کی گئی کہ تعلیمی اسناد عوامی عہدہ رکھنے کے لیے قانونی شرط نہیں ہیں اور عوامی دلچسپی کے اظہار کے بغیر ان کا انکشاف نہیں کیا جا سکتا۔
'ڈگری کسی اجنبی کو نہیں دکھائی جا سکتی'
عدالت نے 27 فروری کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ اس معاملے کی سماعت کے دوران دہلی یونیورسٹی نے کہا تھا کہ وہ عدالت کو ڈگری دکھا سکتی ہے لیکن کسی اجنبی کو نہیں۔ دہلی یونیورسٹی کی طرف سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا تھا کہ ایک طالب علم کی ڈگری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، آج ملک کا وزیر اعظم کون ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ دہلی یونیورسٹی میں چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ یونیورسٹی ہر سال رجسٹر کو برقرار رکھتی ہے۔ مہتا نے کہا تھا کہ دہلی یونیورسٹی عدالت کو ڈگری دکھا سکتی ہے لیکن ڈگری کسی اجنبی کو نہیں دکھائی جا سکتی۔
آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت انکار نہیں کیا جاسکتا
اس معاملے پر سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے کہا گیا کہ آر ٹی آئی کے تحت کسی طالب علم کو ڈگری دینا کوئی پرائیویٹ ایکٹ نہیں ہے بلکہ پبلک ایکٹ ہے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کی طرف سے پیش ہوئے وکیل شادان فراست نے کہا کہ آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت دہلی یونیورسٹی ایک عوامی اتھارٹی ہے۔ ایسی صورت حال میں معلومات حاصل کرنے والے شخص کی نیت کی بنیاد پر کسی کی ڈگری کے بارے میں معلومات سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔