ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنے کا کیس، رپورٹ طلب

پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنے کا کیس، رپورٹ طلب
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنے کا کیس: لاہور ہائیکورٹ نے ڈی جی نیب لاہور اور ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ سے آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔

جسٹس علی ضیاء باجوہ کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے شہری محمد طیب سمیت دیگر کی درخواست پر سماعت کی ، ڈائریکٹر نیب محسن مجید عدالت کے روبرو پیش ہوئے ، درخواست گزار محمد طیب، نصیر احمد اور محمد جمشید بٹ نے اپنے نام پی سی ایل میں شامل کرنے کا اقدام چیلنج کیا۔ ان کے وکیل بریسٹر حمزہ شہرام چوہدری نے مؤقف اپنایا کہ درخواست گزار پاسپورٹ رولز کے رول نمبر 22 اے اور بی کیٹیگری میں نہیں آتے اور نیب نے وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر ان کے نام پی سی ایل میں ڈال دیے جو غیر قانونی ہے۔
جسٹس علی ضیاء باجوہ نے استفسار کیا کہ کیا ہر انکوائری کےدوران ملزم کے نام کو نیب پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال رہا ہے اور وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر شہریوں کے نام کس اختیار کے تحت شامل کیے گئے؟ ڈائریکٹر نیب محسن مجید عدالت میں تسلی بخش جواب نہ دے سکے ،سماعت کے دوران جسٹس علی ضیاء باجوہ نے ڈائریکٹر نیب محسن مجید سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا کہ اب تک کتنے افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں اور کیا ہر انکوائری کے زیر التواء شخص کا نام پی سی ایل میں ڈال دیا جاتا ہے؟ تاہم ڈائریکٹر نیب اور خاتون تفتیشی افسر عدالت کو مطمئن نہ کر سکے۔نیب کے اسپیشل پراسیکیوٹر آصف محمود نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزاروں کے خلاف انکوائری 10 دسمبر 2021 کو شروع ہوئی تھی جو اب انویسٹیگیشن میں تبدیل ہوچکی ہے۔ ان پر 121 کروڑ روپے کے فراڈ کا الزام ہے جس میں عوام سے پیسے لے کر پلاٹ نہیں دیے گئے۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ نیب اور وفاقی حکومت کے پی سی ایل اور ای سی ایل میں نام ڈالنے کے طریقہ کار پر وضاحت درکار ہے۔ عدالت نے ڈی جی نیب لاہور اور ڈی جی پاسپورٹ سے دوبارہ جواب طلب کرتے ہوئے سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔

 

Ansa Awais

Content Writer