ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پاکستان کے افغان ٹریڈ روکنے کے 13 دن بعد سڑکوں پر صورتحال، حقائق سامنےآگئے

پاکستان کے افغان ٹریڈ روکنے کے 13 دن بعد سڑکوں پر صورتحال، حقائق سامنےآگئے
کیپشن: Trade suspended, Pakistan suspends Afghanistan Trade, City42, Torkham Border, Chaman Border, City42 , FBR
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: پاکستان کی افغانستان کے ساتھ تجارت بند ہونے کے باعث مختلف سرحدی راہداریوں پر اور  بارڈر کی طرف جانے والی سڑکوں پر کیا صورتحال ہے، پاکستان کے ذمہ دار ادارہ نے مکمل ھقائق عوام کے سامنے رکھ دیئے۔

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کا حقائق نامہ

 ایف بی آر نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان  کی دوطرفہ تجارت سیکیورٹی مسائل کے باعث بدستور معطل ہے۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ دوطرفہ تجارت معطل ہونے سے پہلے  کسٹمز حکام نے طورخم، غلام خان، خرلاچی اور انگور اڈہ بارڈر کراسنگ پر 363 درآمدی گاڑیوں کی کلیئرنس کر لی تھی ۔

طورخم پر 23 درآمدی گاڑیاں کلیئرنس کی منتظر ہیں۔

درآمد کنندگان نے تاحال گڈز ڈیکلریشن جمع نہیں کرائی ہیں۔

ان گاڑیوں میں کپڑا، پینٹ، مونگ پھلی اور دالوں جیسی  خراب  نہ ہونے والی اشیاء  لدی ہوئی  ہیں۔درآمدکنندگان کی جانب سےگڈز ڈیکلریشن جمع کرائے جانے کے فوراً بعد کسٹمز حکام  کلیئرنس مکمل کر لیں گے۔

سرحد کی بندش کے باعث برآمدی سامان والی 255 گاڑیاں طورخم ٹرمینل کے اندر کھڑی ہیں ۔

  تقریباً 200 گاڑیاں جمرود لنڈی کوتل روڈ پر پھنسی ہوئی ہیں۔

 غلام خان، خرلاچی اور انگور اڈہ بارڈر اسٹیشن پر کوئی درآمدی گاڑی کلیئرنس کی منتظر نہیں ہے۔

چمن بارڈر کسٹمز اسٹیشن پر 15 اکتوبر 2025 سے کسٹمز کلیئرنس آپریشنز معطل ہیں۔ 

چمن میں 5 درآمدی اور 23 برآمدی گاڑیاں پروسیسنگ کی منتظر ہیں جن کے مالکان نے اپنی  کھیپیں   واپس لے جانے سے انکار کر دیا ہے۔

اس وقت ٹرانزٹ  کھیپوں   کی تقریبا ً 495 گاڑیاں طورخم اور چمن پر سرحد پار کرنے کی منتظر ہیں۔ایف بی آر حکام نے بتایا کہ سرحدی مقامات پر کسٹمز عملہ موجود ہے سرحد کھلنے اور صورت حال معمول پر آنے پر  کلیئرنس کا عمل فوراً بحال کر دیا جائے گا۔