سٹی42: پی ٹی آئی کے لئے اچانک سخت مشکل صورتحال پیدا ہو گئی۔ اس مشکل سے نکلنے کا کوئی حل سامنے نظر نہ آنے سے پارٹی میں سراسیمگی پھیل گئی۔
پی ٹی آئی کے بانی نے خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ کو اڈیالہ جیل سے حکم بھیج کر اس لئے استعفیٰ دینے پر مجبور کیا کہ وہ بانی کے بقول بانی کے کچھ احکامات نہیں مانتا تھا اور خارجی فتنہ کے خلاف جنگ مین شامل ہونے سے انکار نہیں کرتا تھا۔ اب یہ سورتحال ہو گئی کہ خیبر پخنتوخوا میں نئے وزیراعلیٰ کی کابینہ بنانے اور اس کی حکومت کی پالیسیوں میں بانی کوئی دخل نہیں دے سکتے، اگر انہوں نے دخل دیا تو ان کے بنوائے ہوئے نئے وزیر اعلیٰ سہیل آٖفریدی کی حکومت کے وجود کو ہی خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے انکشاف کیا ہےکہ بانی تحریک انصاف کے مشورے سے بننے والی کابینہ کالعدم ہوجائے گی۔
ایک انٹرویو کمین سوالات آئے تو ان کے جواب میں رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ میاں نواز شریف کیس کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کوئی مجرم کسی سیاسی جماعت میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا۔ رانا ثنا اللہ نے سپریم کورٹ کے نواز شریف کے متعلق فیصلے کا حوالہ دیا اور کہا، نواز شریف کیس کے سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جب ایک آدمی مجرم قرار پا جائے تو وہ نہ سیاسی جماعت کا سربراہ رہ سکتا ہے ، نہ ہی وہ سیاسی جماعت کے کسی مشورے میں شامل ہوسکتا ہے اور اگر وہ شامل ہے تو وہ فیصلہ کالعدم ہوگا۔
دراصل اسی فیصلے کے سبب نواز شریف وزیر اعظم ہوتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ سے محروم ہو گئے تھے۔