ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کھیل میں تعصب ، نفرت اور سیاست کو گھسیڑنےکاجواب: پاکستان نے اپنی ٹیم بھارت بھیجنے سے منع کر دیا

Pakistan India tension, Pakistan Hockey Federation, Junior Hockey World Cup
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  بھارت کی ہندوتوا کی پجاری حکومت کے کھیل میں تعصب ، نفرت اور سیاست کو گھسیڑنے کے جواب میں پاکستان نے اپنی ٹیم کو بھارت بھیجنے سے منع کر دیا۔ بھارت میں ہونے والے ورلڈ کپ میں پاکستان کی ٹیم نہیں جائے گی۔

 پاکستان کی جونیئر ہاکی ٹیم  کا نام عالمی کپ سے واپس لے لیا گیا ہے۔ 
انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن نے آج  24 اکتوبر کو ایک بیان جاری کر کے  پاکستان کے ٹورنامنٹ سے نام واپس لینے کا اعلان کیا۔ جاری بیان کے مطابق پاکستان نے کوالیفکیشن کے باوجود ٹورنامنٹ سے اپنا نام واپس لے لیا ہے۔
ہندوستان کی ہندوتوا کی پجاری متعصب اور سازش کی رسیا حکومت کی نفرت پھیلانے والی پالیسیوں اور زبردستی پیدا کی ہوئی کشیدگی کا اثر لگاتار کھیلوں پر پڑ رہا ہے۔ کرکٹ کے میدان میں ہاتھ نہ ملانے سے لے کر محسن نقوی کے ذریعہ ہندوستانی ٹیم کے ایشیا کپ کی ٹرافی نہ لینے جیس زبردستی کھڑے کئے ہوئے  تنازعات کے بعد اب پاکستان نے بھی ردعمل کیا ہے اور  ہندوستان میں رواں سال ہونے والے ایف آئی ایچ جونئر ہاکی ورلڈ کپ 2025 سے پاکستان نے اپنا نام واپس لے لیا ہے۔

اس سال آئندہ ماہ  نومبر اور دسمبر 2025 میں ہونے والے اس ٹورنامنٹ کے لیے پاکستانی ٹیم اب ہندوستان کے دورے پر نہیں جائے  گی۔ یہ ٹورنامنٹ 28 نومبر سے 10 دسمبر تک تمل ناڈو کے چنئی و مدورئی میں کھیلا جائے گا۔
بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق انٹرنیشنل ہاکی فیڈریشن (ایف آئی ایچ) نے جمعہ (24 اکتوبر) کے روز ایک بیان جاری کر کے پاکستان کے ٹورنامنٹ س میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا۔

 ایف آئی ایچ کی پریس ریلیز کے مطابق پاکستان ہاکی فیڈریشن (پی ایچ ایف) نے انہیں مطلع کیا ہے کہ وہ اس ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لیں گے اور کوالیفائی کرنے کے باوجود مقابلے سے نام واپس لے رہے ہیں۔
24 ٹیموں پر مشتمل اس جونئر عالمی کپ ہاکی  کے گروپ میچوں میں پاکستان کو گروپ بی میں ہندوستان کے ساتھ رکھا گیا تھا، جہاں چلی اور سوئٹزرلینڈ بھی شامل تھے۔ تاہم اب پاکستان کے اس ٹورنامنٹ میں شرکت نہ کرنے کے اعلان کے بعد صورتحال بدل گئی ہے۔ پاکستان کے بغیر یہ ایونٹ بہت کم درجہ کا ایونٹ بن جائے گا۔

ایف آئی ایچ نے بتایا ہے کہ پاکستان کی جگہ دوسری ٹیم کا اعلان جلد ہی کیا جائے گا۔
 پی ٹی آئی کی رپورٹ کے مطابق ہاکی انڈیا کے جنرل سکریٹری بھولاناتھ سنگھ نے بتایا کہ انہیں ابھی تک ایف آئی ایچ کی جانب سے پاکستان کے دستبردار ہونے کی کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی ہے۔ بھولاناتھ سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ ڈیڑھ ماہ قبل ان کی پاکستانی فیڈریشن کے عہدیداروں سے بات ہوئی تھی اور انہوں نے ٹورنامنٹ میں شرکت کی یقین دہانی کرائی تھی۔ انھوں نے واضح کیا کہ ان کی ذمہ داری ٹورنامنٹ کا کامیاب انعقاد اور ہندوستانی ٹیم کو چیمپئن بنانا ہے، اور وہ اسی پر توجہ دے رہے ہیں۔
اس درمیان پاکستان ہاکی فیڈریشن کے عہدیداروں نے کہا کہ وہ ٹورنامنٹ میں حصہ لینا چاہتے تھے، لیکن ہندوستان جانے کے لیے تیار نہیں تھے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔

پاکستان آ کر کھیلنے سے انکار کرنے کی روایت بھارت کی مودی سرکار کے کٹھ پتلی کرکٹ بورڈ نے ڈالی تھی جس کے بعد پاکستان نے بھی ویمن ورلڈ کپ میں پاکستانی ویمن کرکٹ ٹیم کو انڈیا نہیں بھیجا،

اب انڈیا کے منتظمین نے پاکستانی جونئیر ہاکی ٹیم کے لئے انڈیا سے  باہر نیوٹرل وینیوز پر میچوں کا بندوبست کرنے سے انکار کیا ےو پاکستان ہاکی فیڈریشن نے اس اہم ایونٹ کو لات مار کر اس سے علیحدگی اختیار کر لی۔

 رپورٹ میں پی ایچ ایف کے ایک افسر کے بیان کا حوالہ دیا گیا ہے، جس نے کہا گیا ہے کہ وہ کرکٹ کی طرح اس ٹورنامنٹ کے میچز بھی نیوٹرل وینیو (غیر جانبدار مقام) پر کھیلنے کے لیے تیار تھے، لیکن ایف آئی ایچ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب پاکستان نے انڈیا میں ہونے والے کسی ہاکی ٹورنامنٹ سے نام واپس لیا ہو۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مئی میں ہونے والے سرحدی تصادم کے بعد اگست-ستمبر میں مردوں کے ہاکی ایشیا کپ کا انعقاد ہندوستان میں ہی ہوا تھا۔ اس وقت بھی دونوں ملکوں کے درمیان نریندر مودی کی زبردستی پیدا کی ہوئی  کشیدگی کے باعث پاکستان نے ٹورنامنٹ سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ اُس وقت پاکستان نے کہا تھا کہ وہ جونیئر عالمی کپ ہاکی کے لیے ٹیم بھیجے گا، لیکن اب پاکستانی فیڈریشن نے اس ٹورنامنٹ سے بھی اپنا نام واپس لے لیا ہے۔