ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایران قومی مفادات کی حفاظت کرنا چاہتا اور مذاکرات میں انتہائی احتیاط  برت رہا ہے، مسعود پیزشکیان

 ایران قومی مفادات کی حفاظت کرنا چاہتا اور مذاکرات میں انتہائی احتیاط  برت رہا ہے، مسعود پیزشکیان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے کہا ہے کہ ان کا ملک اپنے قومی مفادات کی حفاظت کرنا چاہتا ہے اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں انتہائی احتیاط  برت رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز ایرانی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر کے ساتھ ملاقات میں پیزشکیان نے کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے معاہدوں کی بار بار خلاف ورزی، مذاکرات کے دوران ایران پر حملوں اور اس کے افسران کی ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات کی وجہ سے عوام میں شدید عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔پیزشکیان نے کہا کہ ایسے حالات میں ایران نے اپنے ’’برادرانہ تعلقات‘‘ والے دوست ممالک کے ساتھ مل کر بات چیت کی ہے لیکن اس کا بنیادی مقصد صرف ایرانی عوام کے مفادات کا تحفظ اور منصفانہ حل تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صرف اپنے لوگوں کے قانونی اور جائز حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں لیکن ہماری تاریخ اور امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا تجربہ ہمیں انتہائی احتیاط برتنے پر مجبور کرتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے  صدر نے کہا کہ جنگ کبھی کسی کے مفاد میں نہیں ہوتی اس سے پورے خطے اور دنیا کو نقصان ہی ہوگا۔  نیوز ایجنسی ’زنہوا‘ کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف جو جمعہ کی رات تہران پہنچے، نے اس ملاقات کے دوران علاقائی استحکام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا، مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ ایران اور علاقائی ممالک کے لیے اس کا نتیجہ مثبت نکلے گا۔
اس کے علاوہ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ اگر واشنگٹن نے لچک نہیں دکھائی تو تہران کے ساتھ امن مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں۔ ’فارس‘ نے ایرانی مذاکرات کار ٹیم کے قریبی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایران نے 3 اہم شرائط رکھی ہیں۔ پہلی، اس وقت اس کے جوہری پروگرام پر بات نہیں ہوگی۔ دوسری، مذاکرات سے پہلے اس کے منجمد اثاثے واپس کئے جائیں اور تیسری آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول اور انتظام جاری رہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب تک ان تینوں اہم معاملات پر اتفاق نہیں ہو جاتا، کوئی بات چیت آگے نہیں بڑھے گی۔