ویب ڈیسک: امریکا نے شام پر عائد اقتصادی پابندیاں باضابطہ طور پر ختم کر دی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا ہے کہ شام پر عائد پابندیوں میں 180 دن کی چھوٹ دی گئی ہے تاکہ مستقبل میں تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ شام کے ساتھ نئے تعلقات کے آغاز کی نشاندہی کرتا ہے۔
ادھر امریکی وزیر خزانہ نے بیان میں کہا ہے کہ شام کو ایک مستحکم اور خوشحال ریاست بنانے کے لیے کام جاری رکھنا ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات شام کو استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے۔
واضح رہے کہ یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا جب سعودی عرب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ولی عہد محمد بن سلمان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔ صدر ٹرمپ نے ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ امریکا شام پر عائد پابندیاں ختم کرنے جا رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شام کی نئی قیادت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور یہ فیصلہ ایک نئی شروعات کے طور پر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم شام کو نیا موقع فراہم کر رہے ہیں، امید ہے شامی عوام اس موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔
اس فیصلے کے بعد شام کے عبوری صدر احمد الشرع نے سعودی عرب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات کی۔ یہ ملاقات گزشتہ 25 سال بعد پہلی بار دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان براہ راست رابطے کا موقع بنی۔