فریحہ بتول:مہنگائی کے ستائے شہریوں کے لیے بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتیں مسلسل دردِ سر بنی ہوئی ہیں، جبکہ دودھ اور دہی کی سرکاری قیمتوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
مارکیٹ سروے کے مطابق دودھ کی سرکاری قیمت 170 روپے فی لیٹر مقرر ہے، تاہم شہر کے مختلف علاقوں میں دکاندار کھلے عام من مانے نرخ وصول کر رہے ہیں۔ اوپن مارکیٹ میں دودھ 200 سے 240 روپے فی لیٹر تک فروخت کیا جا رہا ہے، جس سے شہریوں پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔
اسی طرح دہی کی قیمت بھی قابو سے باہر دکھائی دے رہی ہے۔ سرکاری نرخوں کے برعکس مختلف علاقوں میں دہی 220 سے 250 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے، جبکہ قیمتوں میں یکسانیت نہ ہونے کے باعث ہر دکاندار اپنی مرضی کے مطابق نرخ وصول کر رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد کرانے میں ناکام نظر آتے ہیں، جس کے باعث روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔
عوام نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دودھ اور دہی سمیت دیگر اشیائے خورونوش کی سرکاری قیمتوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور ناجائز منافع خوری کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے تاکہ شہریوں کو ریلیف مل سکے۔