سیکرٹری بلدیات کا بجٹ اپ لوڈ کرنے کا حکم نظر انداز

سیکرٹری بلدیات کا بجٹ اپ لوڈ کرنے کا حکم نظر انداز

لوئر مال(راؤ دلشاد) سیکرٹری بلدیات نے 20 جون تک بجٹ کو اپ لوڈ کرنے کا حکم دیا جو نظر انداز کردیا گیا۔

محکمہ بلدیات پنجاب نے میٹروپولیٹن کارپوریشن سمیت چارسوپچپن بلدیاتی اداروں کے سربراہان کو رواں مالی سال کے بجٹ کی تمام تر تفصیلات لوکل گورنمنٹ ڈیش بورڈ پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت کی جو خاطر میں نہیں لائی جا سکی۔

حکام کے مطابق کورونا وباکے پیش نظر بلدیاتی اداروں نے ترقیاتی فنڈز کورونا میں خرچ کر دیئے، پنجاب حکومت نے 51 ارب روپے رواں مالی سال 2020ء تا 2021ء میں بلدیاتی اداروں کیلئے رکھے، خود مختار چارسو پچپن اداروں کو ٹیکس وصولی اہداف میں پندرہ ارب روپے کا خسارہ ہوا۔مالی خسارے اور کورونا وبا میں اربوں کے خسارے سے بجٹ میں افسر مشکلات کا شکار ہوگئے۔

میٹروپولیٹن کارپوریشن کا بھی مالی سال 2020-2021 ء کا سالانہ بجٹ مشکلات کا شکار ہے، میٹروپولیٹن کارپوریشن کا ترقیاتی بجٹ ایک ارب کے خسارے سے 2 ارب کا ہوگا،نئی ترقیاتی سکیموں کی مد میں ڈیڑھ ارب روپے کی منظوری دیئے جانے کا امکان ہے،غیر ترقیاتی اخراجات کی مد میں پچاس کروڑ روپے کے خسارے سے 8ارب کی منظوری متوقع ہے،غیر ترقیاتی اخراجات میں تنخواہوں کی مد میں 2 ارب 3 کروڑ 82 لاکھ 36 ہزار رکھے گئے ہیں۔

  میٹروپولیٹن کارپوریشن نے متفرق اخراجات کی مد میں 6 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی ہے، پی ایف سی کی مد میں ایک ارب 92 کروڑ 29 لاکھ 30 ہزار سالانہ بھی بجٹ میں شامل کرلیے گئے۔

جاری ترقیاتی سکیموں کو مکمل کرنے کیلئے 16 کروڑ 52 لاکھ 45 ہزار روپے کی منظوری دی جائے گی، ایم سی ایل ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کی مد 2 ارب 50 کروڑ کی منظوری دی جائے گی،   پنجاب حکومت سے پی ایف سی کے ترقیاتی شیئر کی ادائیگی ہی نا صرف میٹروپولیٹن کارپوریشن کو خسارے سے بچاسکتی ہے بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل بھی ممکن ہوسکتی ہے۔