ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سولر نیٹ میٹرنگ سے متعلق درخواست نمٹا دی گئی

سولر نیٹ میٹرنگ سے متعلق درخواست نمٹا دی گئی
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے سولر نیٹ میٹرنگ سے متعلق نیپرا اور وفاقی حکومت کی نئی پالیسی کے خلاف دائر درخواست وفاقی حکومت اور نیپرا کے جواب کی روشنی میں نمٹا دی۔

جسٹس عابد حسین چٹھہ نے شہری سید اظہر حسین شاہ سمیت دیگر کی درخواست پر سماعت کی۔درخواست گزاروں کی جانب سے وفاقی حکومت، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی اور دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا تھا۔، سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گزار 2022 سے لیسکو کا نیٹ میٹرنگ کنزیومر ہے اور اس کی درخواست پر نئے نیٹ میٹرنگ قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔ وکیل کے مطابق نئی پالیسی کا اطلاق آئندہ درخواست دینے والے صارفین پر ہوگا۔نیپرا کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سولر نیٹ میٹرنگ کے معاملے پر بعض تجاویز وفاقی حکومت کو بھجوائی گئی ہیں اور پالیسی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے یونٹ کے بدلے یونٹ دینے کے وعدے کی خلاف ورزی کی ہے، جس سے سولر سسٹم پر بھاری سرمایہ کاری کرنے والے شہریوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ نیپرا کا نیا قانون شہریوں کے بنیادی جائیداد کے حقوق کے خلاف ہے اور مہنگی بجلی خرید کر سستی فروخت کرنے کا فارمولا امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ پرانی نیٹ میٹرنگ پالیسی کو برقرار رکھنے اور نئے ریگولیشنز پر فوری عملدرآمد روکنے کا حکم دیا جائے۔تاہم، فریقین کے دلائل اور وفاقی حکومت و نیپرا کے جواب کی روشنی میں عدالت نے درخواست نمٹا دی۔
عدالت کے روبرو حکم امتناعی کی درخواست بھی زیر غور آئی، جس پر عدالت نے پہلے فریقین سے جواب طلب کیا تھا، تاہم بعد ازاں مرکزی درخواست نمٹائے جانے کے بعد مزید کارروائی بھی نمٹا دی گئی۔

Ansa Awais

Content Writer