ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں انٹی ریپ ایکٹ پر عملدرآمد اور انٹی ریپ کرائسس سیل کی تشکیل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے وفاقی حکومت کو آئندہ سماعت پر تفصیلی پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، بینچ میں جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ بھی شامل تھے۔سماعت کے دوران پراسیکیوٹر جنرل پنجاب سید فرہاد علی شاہ، ایڈیشنل آئی جی انویسٹی گیشن پنجاب شہزادہ سلطان سمیت دیگر پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصیر احمد مرزا اور صوبائی حکومت کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب محمد امجد پرویز بھی عدالت میں پیش ہوئے۔ تین رکنی بینچ نے زیادتی کیس کے ملزم واجد علی سمیت دیگر کی درخواستوں پر کارروائی کی۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ آیا وفاقی حکومت کی جانب سے تمام مطلوبہ دستاویزات عدالت میں جمع کرا دی گئی ہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصیر احمد مرزا نے عدالت کو بتایا کہ تمام دستاویزات جمع کرا دی گئی ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اصل معاملہ انٹی ریپ کرائسس سیل کی تشکیل اور اس کی ورکنگ کا ہے اور اس حوالے سے مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔
پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت نے انٹی ریپ ایکٹ کے تحت دو نوٹیفکیشن جاری کیے ہیں، جن میں سروسز ہسپتال لاہور اور ویکتوریا ہسپتال بہاولپور میں کرائسس سیلز کے قیام سے متعلق اقدامات شامل ہیں۔چیف جسٹس نے متعلقہ نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت ان کے پاس دونوں ہسپتالوں کے نوٹیفکیشن موجود نہیں، تاہم مہلت دی جائے تو وہ نوٹیفکیشن اور کمیٹیوں کی میٹنگز کی رپورٹ عدالت میں پیش کر دیں گے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ اس ایک معاملے کی وجہ سے کیس زیر التواء چلا آ رہا ہے اور وفاقی حکومت کو اس حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔بعد ازاں عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی مہلت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو تین مارچ کو انٹی ریپ کرائسس سیل کی تشکیل اور پیش رفت سے متعلق مفصل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔