(ایم وقار)پاکستان ٹیلی ویژن کےمقبول اداکار نثار قادری کو رخصت ہوئے2برس بیت گئے۔
نثار قادری ریڈیو، ٹی وی اور تھیٹر کا ایک معروف نام تھے، حقیقی نام نثار الانبیاء تھا لیکن ننھیال کا تعلق چونکہ قادری سلسلے سے ہے اس لئے اپنے نام کے ساتھ قادری لگا لیا اور نثار الانبیاء سے نثار قادری بن گئے۔
یوں تو انہوں نے بے شمار ڈراموں میں کام کیا لیکن ”ماچس ہوگی آپ کے پاس“ تو ان کے نام کے ساتھ چپک سا گیا تھا،انہیں 1999ء میں تمغہ حسن کارکردگی بھی ملا تھا،انہوں نےڈرامہ اچانک ”آدھی دھوپ کے علاوہ اسلام آباد سے بے شمار ڈرامے کئے، بے شمار ٹیلی فلمیں بھی کیں، سید نور کی فلم ”ہم ایک ہیں“ بھی کی تھی جوان کی پہلی اور آخری فلم تھی۔
نثار قادری نےفنی سفرکا آغاز ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے کیا تھا،ان کی پیدائش چکوال کی تھی،انہوں نے شوبزکی آنے کی کہانی بتاتے ہوئے کہاتھاکہ راولپنڈی میں ایک بار ڈرامے کی ریہرسل ہو رہی تھی اور میں بھی ریہرسل دیکھنے چلا گیا ،وہاں جو شخص کام کر رہا تھا اس سے مکالمہ ادا نہیں ہو رہا تھاتو میں نے ڈائریکٹر سے کہا کہ اگر میں یہ مکالمے بول دوں تو کیسا رہے گا؟ مکالمہ یہ تھا ”موری کی اینٹ کو مندر میں لگا دینے سے اس کی حیثیت نہیں بدل جاتی۔“ میں نے مکالمہ بولا تھا تو مجھے فوراً کام مل گیا، اسی ڈرامے کی ریہرسل کے دوران انہیں کہا گیا کہ آپ کی آواز میں ایک خاص بات ہے آپ ریڈیو میں کام کیوں نہیں کرتے؟ اس طرح وہ ریڈیو چلے گئے اورآڈیشن میں پاس ہوگئے، یہ 1965ء کی ہی بات ہے۔
نثار قادری کا 1966ء میں پی ٹی وی راولپنڈی پرپہلاڈرامہ ”دیواریں“ تھا، اس کے بعدبے شمار ڈراموں میں کام کیا جن میں یاور حیات کے بعد ساحرہ کاظمی، اسلم اظہر، آغا ناصر، کاظم پاشا، قاسم جلالی اور اقبال انصاری سمیت بہت سے پروڈیوسرزشامل تھے۔
ٹی وی کے بعد انہوں نے تھیٹر پر بھی بہت کام کیا، کمال احمد رضوی، اطہر شاہ خان جیدی اور بانو قدسیہ کے لکھے ہوئے سٹیج ڈراموں میں کام کیا۔یہ مقبول اداکارہ 24دسمبر2023کوراہی ملک عدم ہوگئے تھے۔