( در نایاب ) فردوس مارکیٹ انڈر پاس منصوبہ ایل ڈی اےکا امتحان بن گیا، حالیہ بارشیں اورتعمیراتی کاموں میں التوا منصوبے کی تاخیر کا سبب بننے لگا، فردوس مارکیٹ انڈر پاس منصوبے کو بارشوں سے مالی نقصان پہنچا ہے۔
ایل ڈی اے ذرائع کے مطابق منصوبے کو گزشتہ بارشوں میں ایک کروڑ سے زائد کا نقصان ہوا ہے، ایل ڈی اے حکام اور کنٹریکٹرز نے دوبارہ منصوبے پر کام شروع کردیا ہے۔ منصوبےکی شٹرنگ خراب اور انڈر پاس کی بیرل میں پانی داخل ہونے سے زیادہ نقصان ہوا ہے، انڈر پاس سے پانی نکالنے کے لیے اضافی ڈی واٹرنگ سیٹ اور لیبر لگانا پڑی ہے۔
انڈر پاس کی کھدائی رک جانے اور بعد میں مٹی نکالنے سے بھی نقصان ہوا ہے۔ پراجیکٹ حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تعمیراتی کاموں کے دوران نقصان پورا نہیں کیا جائے گا۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر اقرار قریشی کا کہنا ہے کہ کوشش ہے کہ منصوبے پر کام تیز کیا جائے۔
واضح رہے منصوبے کا سنگ بنیاد اٹھارہ مئی کو وزیراعلیٰ پنجاب نے رکھا تھا، ورک آرڈر اور باقاعدہ کام پانچ جون کو شروع ہوا۔ وزیراعلیٰ نے منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے تین ماہ کا وقت دیا۔ وزیراعلی پنجاب کی ڈیڈ لائن پانچ ستمبر کو ختم ہوجائے گی جبکہ ایل ڈی اے حکام کا موقف ہے کہ شیڈول میں موسمی حالات سب سے زیادہ تاخیر کا سبب بنے ہیں۔