لاہور ہائیکورٹ کا حالیہ فیصلہ محض ایک مقدمے کا تصفیہ نہیں بلکہ پاکستان کے فوجداری نظام میں ایک اہم قانونی اصول کی ازسرنو توثیق ہے۔ عدالت نے 1500 گرام چرس برآمدگی کے کیس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی ساڑھے چار سال قید کی سزا کو غیر قانونی قرار دے کر واضح کر دیا کہ منشیات کے مقدمات میں قانون کی مقررہ کم از کم سزا سے انحراف کسی صورت قابل قبول نہیں۔یہ فیصلہ کئی حوالوں سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ سب سے پہلے تو عدالت نے یہ اصول طے کر دیا کہ ایک کلوگرام سے زائد چرس کی برآمدگی پر کم از کم 9 سال قید کی سزا لازم ہے۔ یہ محض ایک تشریح نہیں بلکہ قانون کے اس تقاضے کی یاد دہانی ہے جسے بعض اوقات نچلی عدالتیں نظر انداز کر دیتی ہیں۔
کم سزا: ہمدردی یا قانونی غلطی؟
اکثر ٹرائل کورٹس بعض حالات میں ملزم کے حق میں نرمی برتتے ہوئے کم سزا دے دیتی ہیں۔ بظاہر یہ ایک انسانی رویہ محسوس ہوتا ہے، مگر جب قانون واضح ہو تو ایسی نرمی دراصل انصاف کے بنیادی اصولوں سے انحراف بن جاتی ہے۔ عدالت عالیہ نے اسی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ترمیمی ایکٹ 2022 کے بعد منشیات کے مقدمات میں سزا کا ایک واضح فریم ورک موجود ہے جس کی پابندی لازم ہے۔
یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا جج کے پاس صوابدید (discretion) باقی رہتی ہے؟ جواب یہ ہے کہ جہاں قانون کم از کم سزا مقرر کر دے، وہاں صوابدید محدود ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو نہ صرف کالعدم قرار دیا بلکہ اسے قانون کے منافی بھی قرار دیا۔
عدالتی نظیر اور اس کے اثرات
جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ کا 11 صفحات پر مشتمل فیصلہ عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ اسی نوعیت کے مقدمات میں نچلی عدالتیں اس فیصلے کو مدنظر رکھنے کی پابند ہوں گی۔ یہ ایک طرح سے عدالتی نظم و ضبط (judicial discipline) کو مضبوط کرنے کی کوشش بھی ہے۔
ریمانڈ کا فیصلہ: انصاف کا دوسرا موقع
عدالت نے ملزم کو بری نہیں کیا بلکہ کیس کو دوبارہ ٹرائل کے لیے ریمانڈ کر دیا۔ اس اقدام سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عدالت کا مقصد صرف سزا بڑھانا نہیں بلکہ ایک درست اور قانونی ٹرائل کو یقینی بنانا ہے۔ فیصل آباد کی خصوصی عدالت کو ایک ماہ میں دوبارہ ٹرائل مکمل کرنے کی ہدایت بھی اسی سمت ایک قدم ہے تاکہ انصاف میں تاخیر نہ ہو۔
منشیات کے خلاف ریاستی پالیسی
یہ فیصلہ دراصل ریاست کی اس پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جس میں منشیات کے خلاف سخت رویہ اختیار کیا گیا ہے۔ پاکستان میں منشیات ایک سنگین سماجی مسئلہ بن چکی ہے، جس کے اثرات نوجوان نسل تک گہرائی سے پہنچ رہے ہیں۔ ایسے میں قانون کا سخت اطلاق ایک deterrent (روک تھام) کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اہم سوالات
تاہم اس فیصلے کے ساتھ چند اہم سوالات بھی سامنے آتے ہیں:
کیا صرف سخت سزائیں منشیات کے مسئلے کو حل کر سکتی ہیں؟
کیا تفتیش اور پراسیکیوشن کا معیار بھی اسی سطح کا ہے جس کا تقاضا قانون کرتا ہے؟
کیا ملزمان کے بنیادی حقوق اور منصفانہ ٹرائل کے تقاضے مکمل ہو رہے ہیں؟
یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کیونکہ انصاف صرف سزا دینے کا نام نہیں بلکہ ایک متوازن اور شفاف عمل کا تقاضا کرتا ہے۔
نتیجہ
لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ قانون کی عملداری میں کوئی ابہام یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی، خصوصاً ایسے جرائم میں جو معاشرے کے لیے خطرہ بن چکے ہوں۔ ساتھ ہی یہ فیصلہ عدالتی نظام کے لیے بھی ایک یاد دہانی ہے کہ قانون کی درست تشریح اور اس پر عملدرآمد ہی انصاف کی بنیاد ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ نچلی عدالتیں اس عدالتی نظیر کو کس حد تک اپناتی ہیں اور آیا یہ فیصلہ واقعی منشیات کے مقدمات میں یکسانیت اور شفافیت لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔
نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر