ملک اشرف : لاہور ہائی کورٹ میں منکی پاکس کے بڑھتے کیسز اور حکومتی اقدامات کی مبینہ ناکامی کے خلاف آئینی درخواست دائر کر دی گئی ہے۔
درخواست جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی جانب سے دائر کی گئی جس میں وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور وزارت صحت سمیت دیگر متعلقہ اداروں کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ لاہور میں منکی پاکس کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ حکومتی سطح پر مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔ درخواست گزار کے مطابق میو اسپتال میں متعدد مریض زیرِ علاج ہیں، جس سے صورتحال کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ منکی پاکس سے بچاؤ کے لیے ضروری ویکسین JYNNEOS اور علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا Tecovirimat (TPOXX) تاحال دستیاب نہیں، جو کہ حکومتی غفلت کو ظاہر کرتا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ مؤثر سرویلنس اور رپورٹنگ کا نظام موجود نہیں، جبکہ پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کو مکمل ڈیٹا فراہم نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث صورتحال کا درست اندازہ لگانا مشکل ہو رہا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومتی غفلت کے باعث شہریوں کی زندگی اور صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں، جو آئین میں دیے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ منکی پاکس کے تدارک کے لیے فوری، شفاف اور ٹائم باؤنڈ ایکشن پلان تشکیل دینے کا حکم دیا جائے۔ مزید برآں ایئرپورٹس اور بارڈر کراسنگز پر سخت اسکریننگ، آئسولیشن وارڈز کے قیام، واضح علاجی پروٹوکولز اور عوامی آگاہی مہم شروع کرنے کی ہدایات جاری کی جائیں۔درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ اس معاملے میں غفلت برتنے والے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچا جا سکے.