ملک اشرف : لاہور ہائی کورٹ نے خواتین کے نان و نفقہ کے حق سے متعلق ایک اہم تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نان نفقہ کے مطالبے پر 6 سال کی حد کا مؤقف قابلِ قبول نہیں اور اس حق کو مکمل قانونی تحفظ حاصل ہے۔
جسٹس سلطان تنویر احمد نے 8 صفحات پر مشتمل تحریری صورت میں تحریری فیصلہ جاری کیا، جسے عدالت نے عدالتی نظیر بھی قرار دیا ہے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ نان و نفقہ کا حق بنیادی نوعیت کا حق ہے اور اسے محض مدت کی بنیاد پر محدود نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلوں کو درست قرار دیتے ہوئے 12 سال کے بقایا نان نفقہ کی ادائیگی کو برقرار رکھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ بیوی کو واپس بلانے کے باوجود نان و نفقہ کی ادائیگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اصولِ اسٹاپل کے تحت کوئی فریق اپنے سابقہ مؤقف سے انحراف نہیں کر سکتا، جبکہ مخصوص حالات میں قانونی مدت کی حد کا اطلاق بھی لازم نہیں ہوتا۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق بیوی 2012 سے نان نفقہ سے محروم تھی، جس پر عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے قرار دیا کہ ایسے معاملات میں مالی ذمہ داری سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔عدالت نے شوہر حق نواز کی اپیل خارج کرتے ہوئے بیوی کے حق میں جاری نان نفقہ کی ڈگری کو برقرار رکھا۔ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ شوہر کی جانب سے علیحدگی کے اعتراف کو اہم شہادت کے طور پر تسلیم کیا گیا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ حقوق زوجیت کے حوالے سے شوہر کی جانب سے دائر دعویٰ بھی قانونی طور پر کمزور ثابت ہوا اور اس کا مؤقف قابلِ قبول نہیں رہا۔قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نان نفقہ سے متعلق آئندہ کیسز کے لیے ایک اہم عدالتی نظیر کے طور پر سامنے آئے گا۔