ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

میرے پاس وقت ہے، ایران کے پاس نہیں، نیوکلیئر حملہ نہیں ہوگا: ٹرمپ

میرے پاس وقت ہے، ایران کے پاس نہیں، نیوکلیئر حملہ نہیں ہوگا: ٹرمپ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:واشنگٹن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکی صدر نے ایران کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور فیصلہ سازی میں تاخیر تہران کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ امریکہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، مگر وقت کی کمی ایران کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں صدر امریکی صدر  نے ایک بار پھر ایران کے اندرونی اختلافات کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ وہاں قیادت میں واضح تقسیم موجود ہے اور مختلف دھڑے اقتدار کے لیے آپس میں برسرپیکار ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ چاہتا ہے کہ ایران متحد ہو کر مذاکرات کی میز پر آئے اور کوئی قابلِ قبول معاہدہ طے کرے۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے معاملے میں امریکہ ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم عسکری کارروائیوں میں بڑی پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے بیشتر اہم اہداف کو نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو باقی اہداف کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر کے مطابق ایران کی فضائی، بحری اور دفاعی صلاحیتیں شدید متاثر ہو چکی ہیں جبکہ سٹریٹ آ ف ہرمز  پر کنٹرول اور ناکہ بندی کے باعث ایرانی معیشت اور تیل کے شعبے پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ان قیاس آرائیوں کو رد کرتے ہوئے کہ امریکہ اخراجات کے باعث جلد معاہدہ چاہتا ہے، ٹرمپ نے کہا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں اور معاہدہ صرف اسی صورت میں ہوگا جب وہ امریکہ، اس کے اتحادیوں اور عالمی مفاد کے مطابق ہوگا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروٹھ سوشل پر بھی اسی مؤقف کا اعادہ کیا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے امریکی عوام کو خبردار کیا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کچھ عرصے کے لیے اضافہ ہو سکتا ہے۔ اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے بغیر بھی بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے جنگ بندی سے متعلق کسی حتمی ٹائم لائن دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کی جنگیں اس سے کہیں زیادہ طویل رہی ہیں، جبکہ ایران کے اندرونی اختلافات ہی اسے کسی واضح مؤقف اپنانے سے روک رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے زیادہ تر عسکری مقاصد حاصل کر چکا ہے اور کارروائی اس لیے روکی گئی کہ ایران امن کی طرف آنے کا اشارہ دے رہا تھا، تاہم اگر ضرورت پڑی تو امریکی فوج مختصر وقت میں دوبارہ کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے۔