ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکا کا ایئر ٹریفک کنٹرول نظام 40 سال پرانا، فنڈز کی کمی سے بحران سنگین

امریکا کا ایئر ٹریفک کنٹرول نظام 40 سال پرانا، فنڈز کی کمی سے بحران سنگین
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: امریکا کا عمر رسیدہ ایئر ٹریفک کنٹرول نظام مسلسل ناکامیوں کا شکار ہے، جہاں پرانے مواصلاتی نظام، کئی دہائیوں پرانے کمپیک کمپیوٹرز اور بعض نظاموں کے متبادل پرزوں کے لیے ای بے تک سے مدد لی جا رہی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پیر کے روز شمال مشرقی امریکا میں ہزاروں پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں یا منسوخ ہوئیں۔ اس کی وجہ فلاڈیلفیا کے ایک ایئر ٹریفک مرکز میں سرکٹ کی خرابی اور نیو جرسی کے شہر نیو برنزوک کے قریب تعمیراتی عملے کی جانب سے فائبر آپٹک کیبل حادثاتی طور پر کٹ جانا تھا امریکی وزیر ٹرانسپورٹیشن شان ڈفی نے منگل کو کہا کہ ملک کا ٹیلی کمیونیکیشن ڈھانچہ اب بھی 40 سال پرانے نظام پر قائم ہے، جس کے باعث ایک سوئچ کی خرابی اور کسی لائن کے کٹنے سے پورا شمال مشرقی خطہ متاثر ہوسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ کئی دہائیوں سے جاری نظام کو جدید بنانے کی تاخیر، کم فنڈنگ اور عارضی بنیادوں پر کی جانے والی اصلاحات کے باعث امریکی ایئر ٹریفک کنٹرول نیٹ ورک کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے اربوں ڈالر خرچ کیے جانے اور مزید رقم کی منظوری کے باوجود فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) ایسے پرانے اور بعض اوقات ایک دوسرے سے مطابقت نہ رکھنے والے نظاموں پر انحصار کررہی ہے، جہاں ایک معمولی آلات کی خرابی یا کیبل کٹنے سے پروازوں کا نظام متاثر ہوسکتا ہے۔

جنوری 2023 میں ایک کنٹریکٹر کی جانب سے کمپیوٹر فائلیں غلطی سے حذف کیے جانے کے بعد امریکا سے روانہ ہونے والی تمام پروازیں گراؤنڈ کردی گئی تھیں۔ اس واقعے سے تقریباً 11 ہزار پروازیں متاثر ہوئی تھیں ستمبر 2025 میں بھی ڈلاس کے علاقے کے دو ہوائی اڈوں پر فائبر لائنز کٹنے کے بعد ٹیلی کمیونیکیشن نظام میں خرابی سے 2 ہزار سے زائد پروازیں تاخیر کا شکار اور سیکڑوں منسوخ ہوئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی سے متعلق بار بار پیش آنے والے سنگین مسائل کے بعد کانگریس نے گزشتہ سال ایئر ٹریفک کنٹرول نظام کو جدید بنانے کے لیے 12.5 ارب ڈالر کی منظوری دی تھی  شان ڈفی کا کہنا ہے کہ وہ نظام کی اپ گریڈیشن اور سہولیات کی بہتری مکمل کرنے کے لیے مزید 30 ارب ڈالر چاہتے ہیں۔

شان ڈفی نے کہا کہ جب تک وسائل فراہم کرکے اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق ڈھانچہ تیار نہیں کیا جاتا، ایسے واقعات پیش آتے رہیں گے  برطانیہ میں بھی رواں ماہ ایئر ٹریفک کنٹرول نظام میں بڑی خرابیاں سامنے آئی ہیں، جس کے بعد ایئرلائنز نے وہاں کے نظام کی مضبوطی پر سوالات اٹھائے ہیں۔

FAA کو اپنے بعض پرانے نظاموں کے لیے متبادل پرزوں کی دستیابی میں بھی مشکلات کا سامنا ہے اور بعض صورتوں میں ادارہ تھری ڈی پرنٹنگ یا ای بے سے پرزے حاصل کرنے پر مجبور ہے امریکی گورنمنٹ اکاؤنٹیبلٹی آفس نے 2024 میں کہا تھا کہ FAA کو پرانے ایئر ٹریفک کنٹرول نظاموں سے نمٹنے کے لیے ’’فوری اقدامات‘‘ کرنے کی ضرورت ہے، جبکہ اس کے مطابق ایسے نظاموں میں ایک تہائی پائیدار نہیں رہے۔

FAA کے 300 سے زائد ایئر ٹریفک مراکز ایک دوسرے سے رابطہ نہیں کرسکتے اور انفرادی اینالاگ کمپیوٹرز پر کام کرتے ہیں۔ FAA کے ایڈمنسٹریٹر برائن بیڈفورڈ نے رائٹرز کو بتایا کہ ہر مرکز الگ تھلگ نظام کی طرح کام کرتا ہے اور ادارہ ٹیکنالوجی کے معاملے میں 20 سال پیچھے ہے۔