ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایسٹر سنڈے بم دھماکوں کا مقدمہ، 15 ملزان کو 200سے620سال تک قید کی سزائیں

 ایسٹر سنڈے بم دھماکوں کا مقدمہ، 15 ملزان کو 200سے620سال تک قید کی سزائیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:سری لنکا  کی ہائیکورٹ نے 2019 کے ایسٹر سنڈے بم دھماکوں کے مقدمے میں 15افراد کو200ے 620سال تک قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں میں279 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ہلاک ہونے والے میں 42 غیر ملکی شہریوں میں 8برطانوی شہری بھی شامل تھے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سری لنکا  کی ہائیکورٹ نے پانچ سال سے جاری مقدمے کی سماعت مکمل کرتے ہوئے ملک کی تاریخ کے مہلک ترین حملوں میں سے ایک کی منصوبہ بندی اور معاونت کے الزام میں15 افراد کو طویل مدتی قید کی سزائیں سنائیں۔21 اپریل 2019 کو ایسٹر سنڈے کے موقع پر ہونے والے بم دھماکوں میں279 افراد ہلاک ہوئے، جن میں42غیر ملکی شہریوں میں 8برطانوی شہری بھی شامل تھے۔ مربوط حملوں میں ملک بھر کے تین گرجا گھروں، جن میں دو کیتھولک اور ایک پروٹسٹنٹ چرچ تھا، اور تین ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ کیتھولک چرچ نے 15 ملزمان کو سزا سنائے جانے کا خیرمقدم کیا ہے۔ کیتھولک پادری جوڈ فرنینڈو نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آخرکار ہمیں انصاف مل گیا۔ اس مقام تک پہنچنے میں بہت طویل وقت لگا۔

سری لنکن ہائیکورٹ کے تین ججوں پر مشتمل بنچ نے 14ملزمان کو قتل، دہشت گردی کی سازش اور اسلحہ و دھماکا خیز مواد رکھنے سمیت تمام الزامات میں قصوروار قرار دیا، جبکہ 15 ویں ملزم کو بعض الزامات میں مجرم قرار دیا گیا۔ استغاثہ کی جانب سے خودکش حملوں کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قرار دیئے جانیوالے محمد ابراہیم محمد نوفَر بھی ان 15افراد میں شامل ہے جنہیں کولمبو کی مستقل ہائیکورٹ ٹرائل ایٹ بار نے200سے620 سال تک قید کی سزائیں سنائیں۔ عدالت نے مزید 9 ملزمان کو بری کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت میں بری ہونے والے ملزمان نے جذباتی انداز میں دیگر افراد کو گلے لگایا، جبکہ انہیں سزا پانے والے ملزمان سے الگ کر دیا گیا۔ بعد ازاں مجرم قرار دیے گئے افراد کو کم سزا دینے کی درخواست پیش کرنے کا موقع بھی دیا گیا۔ عدالت نے ملزمان کی جائیدادیں اور دیگر اثاثے ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔ سزا پانے والے تمام افراد سری لنکا کی اقلیتی مسلم برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

واضح رہےکہ دھماکوں کیلئے سری لنکا میں سرگرم دو اسلامی شدت پسند گروہوں پر الزام عائد کیا گیا تھا، تاہم ان حملوں میں براہِ راست ملوث سمجھے جانے والے افراد میں سے کوئی بھی اب زندہ نہیں ہے۔ 2021 میں حکام نے25 مشتبہ افراد کے خلاف23ہزار 207الزامات عائد کیے تھے۔ ان افراد پر حملوں کی منصوبہ بندی یا انہیں تحریک دینے کا الزام تھا۔ الزامات میں قتل، دہشت گردی کی سازش اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت اسلحہ اور دھماکا خیز مواد سے متعلق جرائم شامل تھے۔ عدالت میں ملزمان کارروائی کے وقفوں کے دوران ایک دوسرے سے بات چیت اور ہنسی مذاق کرتے دکھائی دیے۔ طویل عدالتی فیصلہ پڑھنے کے دوران انہوں نے نماز کیلئے وقفے کی درخواست کی، جسے منظور کر لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 240سال قید بامشقت کی سزا پانے والے محمد ابراہیم صدیق عبداللہ نے کہا کہ’’میں نے کیا کیا یا نہیں کیا، یہ صرف اللہ اور میں جانتے ہیں۔ آخرکار تمام لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور اللہ ہر شخص کا فیصلہ کریگا‘‘۔عدالت نے حملوں میں سازش اور معاونت میں ان کے کردار کی بنیاد پر پانچ ملزمان کو 200 سال، پانچ کو 220سال، چار کو240سال اور ایک ملزم کو 260سال قید کی سزا سنائی۔ حملے میں زندہ بچ جانے والی تریسا فرنینڈو بھی منگل کو انصاف کے حصول کے لیے عدالت پہنچی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی شخص کو وہ تکلیف نہیں سہنی چاہیے جس سے وہ گزری ہیں۔ اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے  تریسا  نے کہا کہ ’’ہم آج اس حملے کے متاثرین کی حیثیت سے انصاف حاصل کرنے آئے ہیں۔ عدالت جو بھی فیصلہ سنائے گی، ہم سر جھکا کر اسے قبول کریں گے‘‘۔

واضح ہو کہ یہ فیصلہ سابق انٹیلی جنس سربراہ سریش سلے کے خلاف جاری ایک الگ تحقیقات کے دوران سامنے آیا ہے۔ ان پر یہ الزامات سامنے آنے کے بعد تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ سری لنکا کی ریاست کے بعض افراد کے حملوں کے ذمہ داروں سے روابط ہو سکتے تھے۔ سلے کو فروری میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم وہ تمام الزامات سے انکار کرتے ہیں۔ تاہم جولائی میں سری لنکا کے ایک سابق پولیس سربراہ اور وزارتِ دفاع کے ایک سابق اعلیٰ عہدیدار کو بھی ممکنہ حملوں سے متعلق غیر ملکی انٹیلی جنس انتباہات پر بروقت کارروائی نہ کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ تاہم سری لنکا میں ۱۹۷۶ء کے بعد سے کسی مجرم کو سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، اس لئے عموماً ایسی سزائیں عمر قید میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔