سٹی42: سرکاری اسکولوں میں ناظرہ قرآن کو لازمی مضمون قرار دیے جانے کے بعد بھی اس کے لیے درکار سپاروں (قاعدوں) کی اشاعت میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے، جس پر سابق ممبر قرآن بورڈ محمد ناظم الدین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام کو خط بھی ارسال کر دیا ہے۔
انہوں نے اپنے خط میں نشاندہی کی ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں سرکاری اسکولوں کو 70 لاکھ قاعدوں کی کمی کا سامنا رہا۔ ناظم الدین کے مطابق تعلیمی سال 2023-24 میں 80 لاکھ قاعدے شائع کیے گئے جبکہ سال 2024-25 میں صرف 37 لاکھ اور 2025-26 کے لیے 26 لاکھ قاعدے شائع ہوئے۔
حیران کن طور پر تعلیمی سال 2026-27 کے لیے صرف 10 لاکھ قاعدے شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو طلبہ کی تعداد کے لحاظ سے ناکافی ہے۔ ناظم الدین کا کہنا ہے کہ سالانہ کم از کم 80 لاکھ قاعدوں کی اشاعت ناگزیر تھی تاکہ تمام طلبہ کو یکساں مواقع میسر ہوں۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بارہویں جماعت کے ترجمہ القرآن کی کتابیں بھی غیر معیاری کاغذ پر شائع کی جا رہی ہیں جو کہ ایک اہم دینی مضمون کے ساتھ ناانصافی ہے۔
دوسری جانب پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ (PCTB) کے حکام کا مؤقف ہے کہ وہ صرف موصول شدہ آرڈرز کے مطابق ہی سپارے اور دیگر کتب شائع کرتے ہیں۔سابق ممبر قرآن بورڈ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ناظرہ قرآن کے قاعدوں کی اشاعت کا جائزہ لیا جائے اور تعلیمی مساوات کو یقینی بنایا جائے تاکہ دینی تعلیم ہر بچے تک پہنچ سکے۔