ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

80 روپے فی ووٹ؛ ووٹ چوری کاہوشربا سکینڈل سامنےآگیا

Vote Chor, City42, Congress, Karnatak Vote Deletion Scandal
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: انتخابات میں ووٹ چوری کرنے کا معاوضہ 80 روپے فی ووٹ کے حساب سے وصول کیا گیا۔ اس انشاف نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی۔ ووٹ چوری میں ملوث حکومت پر تنقید کی نئی لہر چل پڑی؛ 

’ووٹ چوری کا سچ پورے ملک کے سامنے آ چکا ہے‘، پڑوسی ملک کی ریاست میں ووٹرز لسٹوں سے اصلی ووٹروں کے نام  80 روپے فی  ووٹر معاوضہ کے حساب سے بہت بڑی تعداد میں ڈیلیٹ ہونے کی خبر پر  اپوزیشن الائنس کی سربراہ کانگریس کا رد عمل بھی سامنے آ گیا۔
کانگریس نے کہا کہ ووٹ چوری کا یہ انکشاف تو محض ایک اسمبلی سیٹ کا ہے، بی جے پی نے اس طرح کہاں کہاں منظم طریقے سے ووٹ چوری کی ہے، اس کا انکشاف ہونا ابھی باقی ہے۔
کرناٹک کے انتخابی حلقہ آلند میں ’ووٹ چوری‘ سے متعلق ہوئے انکشاف نے سیاسی ہنگامہ برپا کر دیا ہے۔ ایس آئی ٹی کو ملے ثبوتوں کے مطابق ہر ایک ووٹر کا نام حذف کرنے کے لیے 80 روپے کی ادائیگی کی گئی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں ووٹ حذف کیے جانے کی درخواست کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے، جس نے کئی طرح کے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اب اس معاملے میں کانگریس نے ایک بار پھر بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ ’’ذرا سوچیے، ’ووٹ چوری‘ کا یہ انکشاف تو محض ایک اسمبلی سیٹ کا ہے، بی جے پی نے اس طرح کہاں کہاں منظم طریقے سے ووٹ چوری کی ہے، اس کا انکشاف ہونا ابھی باقی ہے۔‘‘
 
کانگریس نے ’ایکس‘ ہینڈل پر  ایک پوسٹ میں’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ایک خبر کا تراشہ پیش کیا، جس کی سرخی بتاتی ہے کہ آلند سیٹ پر ہر ایک فرضی ووٹر کو ڈیلیٹ کرنے کے لیے 80 روپے کی ادائیگی کی گئی۔ اس پوسٹ میں کانگریس لکھتی ہے کہ ’’بی جے پی کی یہ ووٹ چوری جمہوریت پر براہ راست حملہ ہے، جہاں غریبوں اور محروم طبقات کے حقوق کو چھینا جا رہا ہے، ان کی آواز دبائی جا رہی ہے۔‘‘ پارٹی نے مزید لکھا ہے کہ ’’اب اور نہیں۔ بی جے پی کی ووٹ چوری اور انتخابی دھاندلی کا سچ پورے ملک کے سامنے آ چکا ہے۔ عوام ان کی نیت سمجھ چکی ہے، سخت سبق سکھائے گی۔‘‘
اس پوسٹ میں کانگریس نے کرناٹک ایس آئی ٹی کی جانچ میں سامنے آئے حقائق کو بھی سامنے رکھا ہے۔ کانگریس نے لکھا ہے ’’کرناٹک کے آلند میں ہوئی ووٹ چوری میں بڑا کھیل سامنے آیا ہے۔ ایس آئی ٹی کو ثبوت ملے ہیں کہ آلند سیٹ پر ہر ایک ووٹر کو ڈیلیٹ کرنے کے لیے 80 روپے کی ادائیگی کی گئی تھی۔ کرناٹک ایس آئی ٹی نے جانچ میں یہ بھی پایا کہ ووٹ چوری کے اس کھیل میں 6018 ووٹرس کے نام ڈیلیٹ کرنے کے لیے فرضی درخواستیں جمع کی گئیں، جس کے لیے مجموعی طور پر 4.8 لاکھ روپے کی ادائیگی ہوئی۔‘‘ مزید بتایا گیا ہے کہ ووٹر ڈیلیٹ کرنے کے لیے یہ فرضی درخواستیں کلبرگی کے ایک ڈاٹا آپریٹنگ سنٹر سے بھیجے جا رہے تھے۔
 
مرکز میں اپوزیشن پارٹی کانگریس نے پوسٹ میں یاد دلایا ہے کہ اس سے قبل لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے پریس کانفرنس کر آلند اسمبلی میں ووٹ چوری کا انکشاف کیا تھا، جس کے بعد ایس آئی ٹی نے ووٹ چوری کی جانچ شروع کی تھی۔ اس معاملے میں ایس آئی ٹی نے بی جے پی لیڈر سبھاش گٹیدار، ان کے بیٹوں اور ان کے چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ کے ٹھکانوں پر چھاپہ مار کر 7 لیپ ٹاپ اور کئی موبائل فون برآمد کیے ہیں۔