مادرجمہوریت ، بیگم نصرت بھٹو کی دسویں برسی آج منائی جارہی ہے

مادرجمہوریت ، بیگم نصرت بھٹو کی دسویں برسی آج منائی جارہی ہے

 ویب ڈیسک :  سابق خاتون اول بیگم نصرت بھٹو خوش قسمت ترین تھیں کہ ایک وزیراعظم کی  زندگی کی ہمراہی ہونے، ایک وزیر اعظم کی ماں اور صدر پاکستان کی ساس ہونے کا اعزاز پایا  اورزندگی کا المیہ یہ تھا کہ اپنے شوہر اور تین بچوں کی لاشیں اٹھائیں۔

23اکتوبر2012 کو دوبئی کے ایک اسپتال میں 82 سال کی عمر میں نصرت بھٹو کا انتقال ہوا۔ بیگم نصرت بھٹو 23 مارچ 1929 ء کو ملک ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہو ئیں۔ نصرت بھٹو نسلاً ایرانی کرد تھیں بیگم بھٹو ایک دولت مند کاروباری، ایرانی خاندان میں پیدا ہوئیں جن کے آباؤ اجداد نے کراچی میں رہائش اختیار کر لی تھی۔ 8 ستمبر  1951 ء کو وہ جناب ذوالفقار علی بھٹو سے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئیں ۔

ان کے ہاں دو بیٹیاں بے نظیر بھٹو، صنم بھٹو اور دو بیٹے  مرتضی بھٹواور شاہنواز بھٹو پیدا ہوئے۔  سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ بطور خاتون اول کئی بیرونی ممالک کے دورے کئے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کی معزولی کے بعد جب انہیں قید و بند کی صعوبت برداشت کرنی پڑی  تو انہوں نے نصرت بھٹو کو اپنی غیر موجودگی میں پارٹی کا چیئرپرسن نامزد کیا۔

 ان کا حادثاتی طور پر سیاسی سفر شروع ہوا۔1979 میں ان کے شوہر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی  انہوں نے بڑے صبر کے ساتھ اس مصیبت کا سامنا کیا نہ صرف آمر ضیا الحق کا مقابلہ کیا بلکہ پوری ثابت قدمی سے پیپلز پارٹی کو بھی سہارا دئیے رکھا۔

وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی انیس سو اناسی سے انیس سو تراسی تک چیئرپرسن رہیں۔1979 میں ذوالفقارعلی بھٹو کی پھانسی کے بعد بیگم نصرت اور بے نظیر کی طویل قید اور نصرت بھٹو کی بیماری کی وجہ سے اس خاندان پر المیہ بدستور منڈلاتا رہا اور پھر26 سال کے شاہنواز بھٹو کی پراسرار موت نے انھیں ایک اور المیے سے دو چار کر دیا۔

1982 میں ان میں کینسر کی ابتدائی تشخیص ہوئی  تو وہ علاج کے لیے لندن چلی گئیں اور ان کی بڑی صاحبزادی بینظیر بھٹو نے پارٹی کی قیادت سنبھالی۔بیگم نصرت بھٹو  چار مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں اس کے علاوہ وہ اپنی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو کی کابینہ میں سینئر وزیر بھی رہیں۔ بیگم نصرت بھٹو نے بین الاقوامی سطح پر متعدد ایوارڈز بھی حاصل کئے۔

بیگم بھٹو اپنے صاحبزادے میر مرتضی بھٹو کے قتل کے بعد ’الزائمر‘ نامی دماغی بیماری میں مبتلا ہوگئیں۔ الزائمر کی وجہ سے انسان کی یاداشت اور سوچنے کی صلاحیت آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے۔ 23 اکتوبر 2012 ء کو وہ ایک طویل علالت کے بعد دبئی میں وفات پاگئیں ا ور گڑھی خدا بخش میں اپنے عظیم شوہر کے پہلو میں آسودہ خاک ہوئیں۔ حکومت پاکستان نے ملک اور جمہوریت کے لئے ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں ملک کا اعلیٰ شہری اعزاز ’’نشان امتیاز‘‘ اور مادر جمہوریت کے خطاب سے نوازا تھا۔