ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جماعت اسلامی کا کامیاب اجتماع ؛مگر خاموشی کیوں ؟

اسعد نقوی 

جماعت اسلامی کا کامیاب اجتماع ؛مگر خاموشی کیوں ؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

صحافت اور سیاست میں سکندر وہی ہوتا ہے جو موقع پر چوکا مارے
یہ ایسی فیلڈ ہیں جہاں دن اور رات کا فرق ختم ہوجاتا  ہے ۔یہاں پر فرق ہوتا ہے صرف اور صرف  بروقت فیصلے کا  ورنہ بنابنایا کھیل بگڑ جاتا ہے ۔بعض اوقات بروقت میدان بھی سج  جاتا ہے کھیل بھی اچھا کھیل لیا جاتا ہے  لیکن  غلط وقت پر چوکا مارنے کی بجائے چھکا مارنے کی کوشش  ساری محنت غارت کردیتی ہے ۔ 
اس کی بہترین مثال جماعت اسلامی کے تین روزہ  اجتماع سے لے لیجے۔
جماعت اسلامی نے میدان بھی خوب سجایا، تین دن تک مینار پاکستان میں کارکنان کا ہجوم رکھنا کسی اور جماعت کے بس کی بات نہیں تھی۔یہ ایساسیاسی کھیل تھا جو امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم نے کھیلا جہاں کسی بھی لمحے کارکنان کی تعداد کم نہیں ہوئی بلکہ اضافہ ہی ہوا ۔چند گھنٹے کے لیے میدان بھرنا نسبتا آسان ہوتا ہے لیکن تین روز تک میدان سجائے رکھنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔
جماعت اسلامی نے جو کمال دکھایا اس میں انھوں نے خواتین بائیکرز ،نوجوانوں کے لیے ہنرمندی کے اعلانات سمیت کئی ایسے اعلانات کیے جو  واقعی جماعت اسلامی کے چہرے کو جدید دور کے مطابق ڈھالنے کی بھرپور کوشش تھی ۔انھوں نے خواتین اور یوتھ یعنی نوجوانوں کو بھی ٹارگٹ کرکے اہم اعلانات کیے۔
غرض یہی کہ کھیل تو خوب سجایا اور ایک مرتبہ سیاسی جماعتوں کے اندر ہلچل مچا دی لیکن جماعت اسلامی وقت ہر چوکا نہیں لگا سکی۔جماعت اسلامی سے وہی غلطی ہوئی جو  اس فیلڈ میں بنی بنائی گیم کو الٹ دیتی ہے ۔ جماعت اسلامی کے اجتماع کی ٹائمنگ ایسی تھی کہ تین دن کا کامیاب اجتماع بھی فیل ہوگیا۔ جماعت اسلامی  کے تین دن کا بہترین اجتماع اس وقت کسی  مین سٹریم پر ڈسکس نہیں ہو رہا حالانکہ اسی اجتماع سے قبل حافظ نعیم الرحمن صاحب امیر جماعت اسلامی نے میڈیا کے اداروں کے طوفانی دورے کیے۔پریس کلب بھی گئے ، کوریج بھی ملی لیکن ان کے اجتماع کی ٹائمنگ غلط تھی 
بروقت چوکے والی کیفیت نہیں رہی ،آج جماعت اسلامی کا اجتماع ختم ہوا اور اس کے بعد تمام ٹی وی چینلز پر اس کا ذکر ہونا چاہیے تھا مگر تاحا ل سوائے چند ایک پروگرام یا چند منٹ کے سیگمنٹ کے کہیں بھی ان کا  ذکر نہیں ہے  ۔
اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ آج ہی تیرہ حلقوں میں ضمنی الیکشن بھی  ہوا ہے اور میڈیا کی بھرپور توجہ  اسی جانب ہے ۔ سٹریجٹی بناتے وقت اس ٹکراؤ کو مدنظر رکھنا چاہیے تھا ۔  جماعت اسلامی یا تو اس اجتماع کو چار دن کا کرلیتی یا اگلے ہفتے میں رکھ لیتی تاکہ الیکشن اور ان کے اجتماع کے اوقات میں کوئی ٹکراؤ نہ آتا۔

اگر آج الیکشن نہ ہوتے تو جماعت اسلامی کا اجتماع ہر جگہ ڈسکس ہو رہا ہوتا ہر چینل پر  کوریج مل رہی ہوتی ہوسکتا تھا کہ پی ٹی آئی یا دیگر جماعتوں کے بھرپور جلسے بھی  پیچھے رہ جاتے اور صرف نام  جماعت اسلامی کا رہتا اور سیاسی میدان میں ایک نیا رخ سامنے آتا۔ یوں بھی ہوسکتا تھا کہ  ایسا چیلنج سامنے آتا جس کو توڑنا سیاسی جماعتوں کے لیے ممکن نہ رہتا ۔یہ بھی ہوسکتا تھا کہ یہی اجتماع یا الیکشن کسی اور دن ہوتے جن میں ٹکراؤ نہ ہوتا تو دونوں کو بہترین کوریج ملتی۔
جماعت اسلامی کو اپنی سوشل میڈیا اور الیکٹراک و پرنٹ میڈیا کے لیے  بہتر ٹیم رکھنی چاہیے تاکہ جو بروقت فیصلہ کرسکے کہ کیسےاور کس طرح نیوز  چلانی ہے۔ میڈیا میں ان رہنا  ہے ۔ جماعت اسلامی بہترین  اجتماع کروا کر  اس کو ڈسکشن کا حصہ نہیں بنا سکی اور نہ ہی  اس کو  اس طرح  کوریج کروا سکی جتنا اس کا حق تھا ۔