مہنگائی کی دلدل میں پھنسے عوام کیلئے ایک اور بری خبر

مہنگائی کی دلدل میں پھنسے عوام کیلئے ایک اور بری خبر

(علی ساہی) مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کو اس دلدل میں مزید دھکیلا جارہا ہے کیونکہ آنے والے دنوں میں پنجاب میں آٹے کی قیمت میں 138 روپے کا اضافہ ہونے کا امکان ہے،سرکاری اعدادوشمار کے مطابق گندم کی نئی قیمت مقرر ہونے سے آٹا مزید مہنگا ہوسکتا ہے ۔حتمی فیصلہ کابینہ کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب میں آئندہ گندم کی سرکاری قیمت 1650 ہونے سے خزانے پر مزید بوجھ بڑھے گا ۔1650 روپے فی من گندم کی خرید حکومت کو 2350 روپے میں پڑے گی پنجاب میں گندم کے اجرا کی قیمت 1725 روپے کرنے کی تجویز سے آٹا مہنگا ہوگا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فلور ملز کو گندم کا اجرا 1725 کرنے پر آٹے کے 20 کلوگرام بیگ پر قیمت بڑھ سکتی ہے ۔اور آئندہ آنیوالے دنوں میں آٹے کے بیس کلو گرام بیگ کی قیمت 988 روپے ہو سکتی ہے ۔

ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت آئندہ آنےوالے سینزن میں 40 سے 55 لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خرید کرے گی۔ فی من گندم 1650 روپےمیں خریدنے سے حکومت کو 80 ارب روپے تک سبسڈی دینا ہوگی ۔ پنجاب حکومت سبسڈی بڑھا کر آٹے کی قیمت نہیں بڑھائے گی جبکہ اداروں کی جانب سے گندم کی قیمت بڑھانے پر آئندہ ممکنہ اعدادو شمار کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ہوگا ۔

گزشتہ روز چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک کی زیرصدارت پرائس کنٹرول اقدامات کا جائزہ لینے  کے لئے  اجلاس ہوا، چیف سیکرٹری نے لاہورکے کچھ علاقوں میں آٹے کی مقررہ نرخوں سے زائد پر فروخت کا نوٹس لیتے گرانفروشی میں ملوث دکانداروں کیخلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کاحکم دیا۔

اربن یونٹ نے رپورٹ میں تاجپورہ سمیت کچھ علاقوں میں آٹے کی مقررہ قیمت سے زائد پر فروخت کی نشاندہی کی، سپاٹ پرائس سروے کے مطابق صوبے کے دیگر تمام اضلاع میں آٹا مقرر کردہ قیمت پر دستیاب ہے۔