سٹی 42: پاکستان کی معیشت اس وقت مقامی ترقیاتی حکمت عملی اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے درمیان پھنسی ہوئی ہے، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت معاشی پالیسیاں طویل المدتی معاشی استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہیں.
ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے تناظر میں تولہ اینڈ تولہ ایسوسی ایٹس نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ایک ماڈل بجٹ پیش کر دیا ہے، جس میں مقامی معاشی اصلاحات، ٹیکس نظام میں بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ اور آئی ایم ایف پالیسیوں کے متبادل تجاویز شامل کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت اس وقت مقامی ترقیاتی حکمت عملی اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے درمیان پھنسی ہوئی ہے، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آئی ایم ایف کی سخت معاشی پالیسیاں طویل المدتی معاشی استحکام کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
تولہ اینڈ تولہ ایسوسی ایٹس کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو بجٹ منظوری کے لیے سخت شرائط پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرا دی ہے، تاہم اگر مقامی سطح پر موثر معاشی اصلاحات متعارف کرائی جائیں تو معیشت کو زیادہ پائیدار بنیادوں پر استوار کیا جا سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کے غیر ملکی اثاثوں کی واپسی پر ٹیکس چھوٹ دی جائے تو پاکستان میں تقریباً 20 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ اسی طرح ہنڈی اور حوالہ کے بجائے بینکنگ چینلز کے ذریعے ترسیلات زر بھیجنے والوں کو 10 روپے فی ڈالر بونس دینے سے قانونی ترسیلات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔
ماہرین کے مطابق روپے کی قدر کو مستحکم کر کے 250 روپے فی ڈالر تک لانے سے مہنگائی میں تقریباً 6 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے، جبکہ پالیسی ریٹ میں صرف ایک فیصد کمی سے حکومتی قرضوں پر تقریباً 625 ارب روپے کی بچت ممکن ہوگی۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ آئی ایم ایف پالیسیوں کے تحت بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 4.4 فیصد تک پہنچ سکتا ہے، تاہم اگر حکومت مقامی معاشی اصلاحات اور ٹیکس نظام میں بہتری پر توجہ دے تو یہ خسارہ کم ہو کر 2.1 فیصد تک لایا جا سکتا ہے۔
تولہ اینڈ تولہ ایسوسی ایٹس نے زور دیا ہے کہ معاشی استحکام کے لیے مقامی ٹیکس اصلاحات، محصولات میں اضافہ اور ریونیو بیس کو وسعت دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں آئی ٹی سیکٹر کو ٹیکس چھوٹ دینے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق زراعت کے شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ محصولات میں اضافہ ممکن ہو سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے کے نقصانات کم کیے بغیر بجٹ خسارے پر قابو پانا ممکن نہیں ہوگا۔
ماہرین نے سرکاری اداروں کی نجکاری کو بھی ضروری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے قومی خزانے پر موجود بوجھ کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کے لیے ریگولیٹری رکاوٹوں کے خاتمے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہو سکے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر حکومت مقامی سطح پر جامع اصلاحات نافذ کرے تو نہ صرف معاشی استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے بلکہ ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر بھی گامزن کیا جا سکتا ہے۔