سٹی42: فلسطین کی ریاست کی بانی تنظیم فتح نے حماس عسکریت پسند گروپ پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینیوں کے "وجود" کے تحفظ میں مدد کے لیے غزہ کی محصور پٹی پر حکومت کرنے کے عزائم ترک کر دے۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، الفتح کے ترجمان منثر الحائق نے کہا، "حماس کو غزہ، اس کے بچوں، عورتوں اور مردوں کے لیے ہمدردی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔" انہوں نے حماس سے مزید مطالبہ کیا کہ وہ "حکمرانی سے الگ ہو جائے اور اس بات کو مکمل طور پر تسلیم کرے کہ اگر حماس غزہ میں اقتدار میں رہی تو اس سے آگے کی جنگ فلسطینیوں کے وجود کے خاتمے کا باعث بنے گی۔"
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی فتح تحریک نے ہفتے کے روز حماس دہشت گرد گروپ میں اپنے اسلامی حریفوں سے غزہ کی پٹی میں اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ساحلی علاقے میں فلسطینیوں کے "وجود" کی حفاظت کی جا سکے۔
حماس کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس غزہ پر حکومت کرنے کی کوئی خواہش نہیں رکھتی۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حماس ایک دہشتگرد گروپ ہے اور اس گروپ کا غزہ انکلیو پر کنٹرول مستقل جنگ بندی پر مذاکرات میں ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے
حماس کے ایک ترجمان نے الحائق کے بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حماس"غزہ کی انتظامیہ کے حوالے سے کسی بھی ایسے انتظام کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے جس سے معاہدہ ہو"۔
حماس کے ترجمان نے مزید کہا کہ حماس کی "غزہ پر حکومت کرنے کی کوئی خواہش نہیں ہے" اور اس کی بجائے وہ "قومی اتفاق رائے" چاہتی ہے۔
حماس کا اب تک غزہ کی پٹی پر اپنا کنٹرول چھوڑنے اور غیر مسلح ک ہونے سے انکار اسرائیل کے ساتھ مستقل جنگ بندی کے لیے ہونے والی حالیہ ہفتوں کی بات چیت کا اہم نکتہ رہا ہے۔
حماس نے 2007 میں فتح تنظیم کی قیادت میں کام کر رہی فلسطینی اتھارٹی سے ایک پرتشدد بغاوت کے بعد غزہ میں اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد حماس اور فلسطینی اتھارٹی کے مابین مصالحت کی کوششیں ناکام ہو گئی تھیں۔ سات اکتوبر کو غزہ سے حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تو اس کے جواب میں اسی روز اسرائیل نے غزہ پر ابتدائی حملے شروع کئے اور ایک دن کے بعد رسمی جنگ کا اعلان کر دیا تھا جو اب تک ختم نہیں ہوئی۔
اس جنگ کے دوران اسرائیل نے غزہ کے عام شہریوں کو علاقہ چھوڑ کر جانے کا موقع دیا تو حماس کے تمام کارکن بھی عام شہریوں کے ساتھ مل کر غزہ کا علاقہ چھوڑ کر پناہ گزین کیمپوں مین چلے گئے تھے، جب اسرائیل نے دوحہ میں ثالثوں کی مدد سے حماس سے یرغمالیوں کی واپسی کی ڈیل کے عوض غزہ کے عام شہریوں کو غزہ میں واپس آنے کی اجازت دی تو حماس کے کارکن عام شہریوں کے ساتھ غزہ میں واپس آ گئے اور اپنی بندوقوں کی نمائش کرنے کے ساتھ بے گھر فلسطینیوں پر اپنا کنٹرول دوبارہ منظم کرنا شروع کر دیا۔
غزہ کا بیشتر شمالی علاقہ حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد اسرائیلی حملے سے تباہ ہو چکا ہے لیکن وہاں واپس آنے والے لوگوں پر کنٹرول اب بھی حماس کا ہے کیونکہ فلسطینی اتھارٹی نے اپنے سٹاف کو اب تک وہاں تعینات نہیں کیا۔
جنگ بندی کے پہلے 42 دن کے دوران جب حماس نے غزہ میں خود کو منظم کرنا شروع کیا تو اسرائیلی خاموشی سے اسے دیکھتے رہے۔ جنوری میں جنگ بندی میں توسیع کے لیے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد، اسرائیل نے منگل کو غزہ میں حماس کے گزشتہ 50 دن کے دوران سامنے آنے والے ٹھکانوں پر مشتمل اہداف کے خلاف فضائی حملے دوبارہ شروع کیے، جس کے بعد اگلے دن زمینی کارروائیاں کی گئیں۔ حماس نے مسلسل دو دن اسرائیل کی طرف راکٹ فائر کے ساتھ جواب دیا۔ لیکن حماس کے راکٹوں سے کسی کا کچھ نہیں بگڑا۔ اس چار دن کی جنگ کے دوران حماس کے سامنے آ چکے ٹھکانے نشانہ بنے اور ان کے ساتھ وابستہ سویلین جن میں عورتین، بچے بھی شامل تھے وہ بھی بے رحمی کے ساتھ نشانہ بنائے گئے۔
جمعہ کو وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے دھمکی دی کہ اگر حماس 7 اکتوبر کے قتل عام کے دوران پکڑے گئے بقیہ اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کرے گی تو وہ غزہ کے کچھ حصوں کا کنٹرول اپنے پاس رکھے گا۔ دوسرے لفظوں میں وہ غزہ کی پٹی کے کچھ علاقے کو فلسطین سے الگ کرنے کی بات کر رہے تھے۔
تنازعہ حماس کے غزہ میں کنٹرول پر ہے
غزہ کی پٹی میں حماس نے 59 یرغمال بنائے ہوئے ہیں، جن میں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے زیرقیادت دہشت گردوں کے ذریعہ اغوا کیے گئے 251 میں سے 58 افراد شامل ہیں۔
جنوری کے وسط میں، اسرائیل اور حماس نے یرغمالی جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق کیا جو باضابطہ طور پر 42 دن تک جاری رہا اور اس دوران میں حماس نے 30 زندہ یرغمالیوں اور آٹھ مقتول اسیروں کی لاشوں کو رہا کیا، جبکہ اسرائیل نے تقریباً 2000 دہشت گردوں اور دیگر قیدیوں کو رہا کیا، معاہدے کے پہلے مرحلے کی میعاد ختم ہونے سے پہلے رہا ئیوں کا یہ سلسلہ رک گیا جس کو دوبارہ شروع کرنے کے لئے حماس اسرائیل کے غزہ سے نکل جانے پر اصرار کرتی رہی اور اسرائیل خود حماس کے غزہ سے نکل جانے اور غزہ کی تعمیر نو کے عمل سے دور رہنے پر بضد رہا۔
جنگ بندی کے ابتدائی معاہدے میں اصل میں ایک ممکنہ دوسرے مرحلے کا تصور کیا گیا تھا جس میں بقیہ یرغمالیوں اور بہت سے مزید فلسطینی سکیورٹی قیدیوں کی رہائی کے بدلے جنگ کا مستقل خاتمہ ہو نے کا ذکر تھا، لیکن اسرائیل نے کسی بھی ایسے طویل مدتی تصفیے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے جو حماس کو غزہ کی پٹی میں حکمرانی کی طاقت کے طور پر برقرار رکھے۔
نیتن یاہو نے پیر اور منگل کی رات غزہ میں لڑائی دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ حماس کی جانب سے جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں توسیع کی تجاویز کو مسترد کیے جانے کے بعد بات چیت آگے نہیں بڑھے گی۔
حماس نے جنوری میں نیتن یاہو کی طرف سے دستخط کیے گئے معاہدے کی شرائط پر قائم رہنے پر اصرار کیا ۔ جس کے تحت فریقین کو فروری کے اوائل میں دوسرے مرحلے پر مذاکرات شروع کرنا تھے لیکن حماس کی غزہ میں طاقت کی نمائش اور کنٹرول بحال کرنے کی سرگرمیوں نے دوسرے مرحلہ کے مذاکرات کی نوبت نہیں آنے دی۔
ابتدا میں یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ جنگ بندی آگے بڑھنے کے ساتھ جب اسرائیل غزہ سے فوج نکالے کا تو وہاں فلسطینی اتھارٹی واپس آئے گی اور عبوری انتظام کے تحت غزہ کی تعمیر نو کا آغاز ہو گا تو اس عمل میں حماس کہیں نہیں ہو گی۔
عام تصور کے برعکس جب جلد بازی میں جنگ بندی کا نفاذ ہوا تو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوجیوں کے سوا کسی دوسری طاقت کا اگر وجود تھا تو وہ حماس تھی جو اب تک واپس آنے والے بے گھر غزن لوگوں میں ہر جگہ موجود تھی۔۔
دوسرے مرحلے میں مزید فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے بدلے باقی تمام زندہ یرغمالیوں کی رہائی، جنگ کےمستقل خاتمہ اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلاء کا تصور ابتدا میں اتنا امید افزا تھا کہ نیتن یاہو نے ایک فریم ورک پر دستخط کیے جس میں یہ شرائط شامل تھیں لیکن ساتھ ہی اس بات پر بھی اصرار کیا کہ اسرائیل اس وقت تک غزہ سے نہیں نکلے گا جب تک حماس کی فوجی اور حکومت کرنے کی صلاحیتوں کو ختم نہیں کیا جاتا۔
اس دوران بعض عرب ممالک کی یہ رائے سامنے آئی کہ حماس کے مستقبل میں فلسطین میں کردار کو فلسطینیوں پر چھوڑ دیا جانا چاہئے۔ عرب ملکوں کی حماس کو غزہ سے دور کرنے میں بے عملی نے آخر کار جنگ بندی ٹوٹنے کی ہی راہ کھولی۔