جوڈیشل مارشل لاءکا آئین میں کوئی تصور نہیں: چیف جسٹس پاکستان


(سٹی42) مسیحی برادری بھی آج یوم پاکستان جوش و جذبے سے منا رہی ہے۔ ملک بھر کے چرچوں کی طرح کیتھڈرل چرچ مال روڈ میں بھی یوم پاکستان کی مناسبت سے پر وقار  تقریب منعقد ہوئی جس میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے پرچم کشائی کی اور بچوں میں انعامات بھی تقسیم کیے۔

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدنصیب ہیں وہ لوگ جن کا اپنا وطن نہیں ہوتا، ہم خوش قسمت لوگ ہیں کہ آزاد ملک میں پیدا ہوئے، یہ ملک ہمارے لیے ایک نعمت ہے اور بحیثیت قوم ہمیں ہر قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے، ہمیں آزادی کے احترام کے ساتھ اس کا تحفظ بھی کرنا ہے، جو صرف الفاظ یا دکھاوے سے نہیں ہوتا، ایک قوم بن کر آزادی کا تحفظ ہوسکتا ہے اور ہمیں ایک قوم بن کر دکھانا ہے۔

 جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ان کے ہوتے ہوئے ملک میں مارشل لاء نہیں لگ سکتا، جوڈیشل مارشل لاءکا آئین میں کوئی تصور نہیں، نہ مارشل لاء باہر سے ہے اور نہ مارشل لاء اندر سے ہے، پاکستان میں جمہوریت کو ڈی ریل ہونے نہیں دیں گے، ملک کو آئین اور قانون کے مطابق چلنا ہے، پاکستان میں صرف قانون کی حکمرانی ہوگی اور آئین سے ماورا کسی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا، ملک کی ترقی کے لیے اہم ترین عنصر لیڈر شپ ہے اور ملک کی ترقی کا اہم جز قانون کی حکمرانی، آزاد عدلیہ اور لوگوں کو بلاتفریق انصاف فراہم کرنا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وہ آج جس مقام پر ہیں کیتھڈرل سکول اور گورنمنٹ کالج کی وجہ سے ہی ہیں۔