ملک اشرف: لاہور ہائیکورٹ میں شہریوں کو بیرون ملک سفر سے روکنے اور ایئرپورٹس پر آف لوڈ کیے جانے کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی, عدالت نے ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور علی ضیاء کو آئندہ سماعت پر تفصیلی اور جامع رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی سماعت 27 جولائی تک ملتوی کر دی۔
جسٹس فاروق حیدر نے شہری شازم علی سمیت دیگر درخواست گزاروں کی درخواستوں پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور علی ضیاء ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوئے اور شہریوں کو بیرون ملک روانگی سے روکنے اور آف لوڈ کیے جانے کی وجوہات سے آگاہ کیا۔
دوران سماعت جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سامنے بار بار یہ معاملہ آ رہا ہے کہ ایف آئی اے شہریوں کو بیرون ملک جانے سے روک رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اس حوالے سے واضح پالیسی اور مکمل مؤقف عدالت کے سامنے رکھا جائے تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جا سکے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ویزہ اور پاسپورٹ جاری کرنا ایف آئی اے کا اختیار نہیں، جبکہ اسٹڈی ویزہ کے لیے تعلیمی اسناد کی تصدیق بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ عدالت کے مطابق ایف آئی اے کا بنیادی کردار صرف سفری دستاویزات، ویزہ اور پاسپورٹ کی جانچ تک محدود ہے۔ اگر کسی شہری کے پاس درست اسٹڈی ویزہ اور مکمل سفری دستاویزات موجود ہوں تو مستقل رہائش یا دیگر انتظامات کی بنیاد پر اسے آف لوڈ کرنا مناسب نہیں۔
جسٹس فاروق حیدر نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات جن سے پاکستان اور اس کے اداروں پر سوالات اٹھیں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو درست سفری دستاویزات کے باوجود بلاجواز آف لوڈ کرنا عوام کے اعتماد کو متاثر کرتا ہے، جبکہ بیرون ملک سفر ہر شہری کا قانونی حق ہے جسے غیر ضروری طور پر محدود نہیں کیا جا سکتا۔
اس موقع پر ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور علی ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ صرف لاہور سے 11 ہزار 351 افراد وزٹ ویزے پر بیرون ملک گئے، جن میں سے متعدد مختلف ممالک سے ڈی پورٹ کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی شہریوں کی مسلسل ڈی پورٹیشن سے ملک کی ساکھ متاثر ہوتی ہے، اسی لیے ایف آئی اے احتیاطی اقدامات کرتی ہے تاکہ مزید بدنامی سے بچا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹڈی ویزہ پر جانے والے طلبہ کے والدین اپنی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں، اس لیے کسی طالب علم کی ڈی پورٹیشن پر ایف آئی اے کو بھی افسوس ہوتا ہے۔ ان کے مطابق کئی ممالک میں پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد میں واپسی کے بعد وہاں پاکستانی مسافروں کی سخت جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے مزید بتایا کہ متعدد افراد جعلی یا غیر قانونی ایجنٹس کے جھانسے میں آ کر ملازمت کے نام پر وزٹ ویزے پر بیرون ملک روانہ ہوتے ہیں، جبکہ ملائیشیا ان ممالک میں شامل ہے جہاں سے پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد واپس بھیجی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے والے حقیقی اسٹڈی ویزہ ہولڈرز کو نہیں روکا جاتا، تاہم بعض کیسز میں طویل تعلیمی وقفے یا دیگر مشکوک حالات کے باعث مزید جانچ ضروری ہوتی ہے۔
جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ اگر متعلقہ ممالک تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد ویزہ جاری کرتے ہیں تو اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض اوقات ویزہ جاری ہونے کے باوجود بعد میں انہی افراد کو متعلقہ ممالک سے واپس بھیج دیا جاتا ہے، جس کے باعث احتیاطی اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت کو مزید بتایا کہ دبئی سمیت بعض ممالک نے اپنے ویزہ قواعد مزید سخت کر دیے ہیں، جبکہ ایف آئی اے صرف انہی مسافروں سے تفصیلی پوچھ گچھ کرتی ہے جن کے بارے میں معقول شبہ موجود ہو۔ ان کے مطابق عوام کو ویزہ قوانین اور امیگریشن کے تقاضوں سے آگاہ کرنا بھی ضروری ہے تاکہ پاکستانی شہری بیرون ملک جا کر مشکلات اور ڈی پورٹیشن سے بچ سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ بعض افراد گرین پاسپورٹ پر بیرون ملک جا کر غیر قانونی طور پر مقیم ہو جاتے ہیں، جس سے پاکستان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے، جبکہ روزانہ تقریباً آٹھ سے دس ہزار مسافر لاہور ایئرپورٹ سے بیرون ملک روانہ ہوتے ہیں۔
بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور کو شہریوں کو آف لوڈ کرنے کے قانونی طریقہ کار، متعلقہ اختیارات، پالیسی، اعداد و شمار اور وجوہات پر مشتمل جامع رپورٹ آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 27 جولائی تک ملتوی کر دی۔