ویب ڈیسک: بھارت کے معروف کرکٹر وِیرات کوہلی اور ان کی اہلیہ اداکارہ انوشکا شرما کی روحانی پیشوا ورنداون میں پریمانند مہاراج سے ملاقات کے ویڈیوز سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ متعدد صارفین نے دہلی میں جاری طلبہ احتجاج پر انکی خاموشی پر سوال اٹھائے، جبکہ بعض نے ان کے روحانی دورے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ کسی عوامی شخصیت پر ہر معاملے پر بیان دینے کی ذمہ داری عائد نہیں کی جا سکتی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس رپورٹ کے مطابق بھارت کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وِراٹ کوہلی اور بالی ووڈ اداکارہ انوشکا شرما ایک بار پھر ورنداون میں روحانی پیشوا پریمانند جی مہاراج کے آشرم پہنچے، جہاں ان کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں۔ تاہم اس بار ان کے دورہ سے زیادہ توجہ اس بات نے حاصل کی کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب ملک میں طلبہ کے احتجاج پر بحث جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے وِیرات کوہلی اور انوشکا شرما کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ملک کی کئی معروف شخصیات طلبہ کے حق میں یا احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر چکی ہیں، لیکن اس جوڑے کی جانب سے کوئی عوامی بیان سامنے نہیں آیا۔ بعض صارفین نے لکھا کہ ایسے وقت میں ان کی خاموشی بھی ایک پیغام سمجھی جا رہی ہے، جبکہ کچھ نے انہیں طلبہ کے حق میں آواز بلند کرنے کا مطالبہ کیا۔
اس حوالے سے کئی مداحوں نے اس تنقید کو غیر ضروری قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وِیرات کوہلی اور انوشکا شرما کا ورنداون جانا کوئی نئی بات نہیں، کیونکہ دونوں گزشتہ کئی برسوں سے مختلف مواقع پر پریمانند مہاراج کے آشرم جاتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق کسی روحانی مقام پر حاضری کو سیاسی یا سماجی معاملات سے جوڑنا مناسب نہیں اور نہ ہی ہر عوامی شخصیت پر لازم ہے کہ وہ ہر جاری معاملے پر اظہارِ خیال کرے۔ رپورٹس کے مطابق اس دورے کے دوران دونوں سادہ لباس میں اور ننگے پاؤں آشرم پہنچے۔ ان کی یہ ملاقات معمول کے روحانی دوروں کا حصہ تھی، کیونکہ وہ اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ پریمانند مہاراج سے ملاقات کر چکے ہیں۔ اس بار بھی ان کے ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل دیکھنے میں آیا۔
قابل ذکربات یہ ہے کہ ابھی تک وِیرات کوہلی یا انوشکا شرما نے جاری احتجاج، سوشل میڈیا پر ہونیوالی تنقید یا اپنے پریمانند مہاراج سے ہونیوالی ملاقات کو اس تناظر میں جوڑے جانے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ وہ کسی احتجاج یا سیاسی معاملے پر مستقبل میں اظہارِ خیال کریں گے یا نہیں۔