سٹی42: اقوام متحدہ کے حماس کی سرپرستی اور مدد کرنے کے الزامات کی زد میں آنے کے بعد غزہ میں کھانے پینے کا سامان تقسیم کرنے کے لئے بنائی گئی غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن نے اقوام متحدہ سے مل کر کام کرنے کی پیش کش کی تو اقوام متحدہ نے اس پیش کش کو ٹھکرا دیا۔ خوراک کی قلت کا شکار غزہ کے عوام کی مشکلات امدادی سامان کی ترسیل کا نظام درہم برہم ہونے سے دوچند ہوئی ہیں اور جی ایچ ایف کے ساتھ اقوام متحدہ کے تعاون سے ان میں فوری کمی ہو سکتی تھی۔
GHF تعاون کی پیشکش کا جواب دیتے ہوئے، اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ ایسے گروہوں کے ساتھ کام نہیں کرے گا جو غزہ کے باشندوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں
غزہ میں امداد کی تقسیم کے لیے غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کی جانب سے اقوام متحدہ کے ساتھ تعاون کرنے کی پیشکش کے بارے میں پوچھے جانے پر، اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کسی بھی ایسی تنظیم کے ساتھ تعاون کا خیرمقدم کرتا ہے جو انسانی ہمدردی کے اصولوں کی پاسداری کرتی ہے۔
"ان میں سے ایک یہ ہے کہ - کوئی ایسا آپریشن شروع نہ کریں جس سے کھانا حاصل کرنے کی کوشش میں لوگوں کو گولی مار دیئے جانے یا روند ڈالے جانے کا خطرہ بڑھ جائے،" وہ کہتے ہیں، GHF جو غزہ کے دور دراز، عسکری علاقوں میں خوراک تقسیم کرنے والے مقامات کی ایک چھوٹی سی تعداد کو چلا رہا ہے، اس نے فلسطینیوں کو طویل فاصلے تک پیدل چلنے پر مجبور کیا، اور انہیں امداد حاصل کرنے کے لئے آئی ڈی ایف کی لائنوں کو عبور کرنا پڑا۔
غزہ میں غذا کا بحران کم کرنے میں اپنے حصہ کے طور پر GHF کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ 20 لاکھ سے زیادہ کھانے تقسیم کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
لیکن GHF کے ڈبوں میں بڑی حد تک خشک خوراک کی مصنوعات بھری ہوئی ہیں جنہیں جنگ سے تباہ حال پٹی میں صاف پانی، کھانا پکانے کے ایندھن یا آلات کی کمی کے ساتھ اب بھی چولہے پر پکا کر تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
سٹیفن دوجارک ایک پریس بریفنگ میں کہتے ہیں کہ اقوام متحدہ نے اتوار سے اب تک 64 کمیونٹی کچن میں 158,000 پکا ہوا کھانا تقسیم کیا ہے، دوجارک نے دعویٰ کیا کہ ان کے تقسیم کئے ہوئے کھانے میں کمی ہو رہی ہے کیونکہ غزہ کہ پٹی میں خوراک کی کمی کی وجہ سے یہ تعداد کم ہو رہی ہے۔
"ہمارے پاس ایک ایسا نظام ہے جو کام کرتا ہے۔ ہم سے صرف یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اس نظام کو استعمال کرنے دیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں منافع بخش تنظیموں کی ایک اور پرت شامل کرنے کی ضرورت ہے،" وہ مزید کہتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ڈیڑھ لاکھ پکے ہوئے کھانے تقسیم کرنے کے دعوے کے برعکس غزہ فاؤنڈیشن بیس لاکھ کھانے تقسیم کر رہی ہے لیکن اس کے کام کرنے کا علاقہ محدود ہے، وہ سارے غزہ مین آپریٹ نہیں کر رہی۔ غزہ فاؤنڈیشن کی طرف سے اقوام متحدہ کے اداروں کے ساتھ تعاون کر کے خوراک تقسیم آپریشنز کو وسعت دینے کی تجویز پہلی مرتبہ سامنے آئی جسے اقوام متحدہ کے ادارہ کے عہدیدار نے رد کر دیا۔
اقوام متحدہ کے غزہ میں خوراک کی سپلائی کم ہونے کے متعلق بیانات کے بعد اسرائیل نے ایسے خوراک کے ذخائر کی تصویریں جاری کیں جو غزہ کے اندر داخل ہونے کے بعد اقوام متحڈہ کے اداروں کی طرف سے اب تک اٹھا کر تقسیم نہیں کئے گئے۔