ملک اشرف : سی سی ڈی کے ہونیوالے پولیس مقابلے،ہائیکورٹ نے آئی جی کو مقابلوں کا جائزہ لینے کا حکم دیدیا، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئےپولیس افسران کیساتھ بیٹھ کرمعاملے کا جائزہ لیں۔عدالت نے آئی جی کی رپورٹ پرملزم کی جان کے تحفظ کی درخواست نمٹا دی۔
چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے فرحت بی بی کی درخواست پرسماعت کی،آئی جی ڈاکٹر عثمان انور، ڈی پی او شیخوپورہ، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل وقاص عمرکے ہمراہ پیش ہوئے، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے آئی جی کی جانب سے رپورٹ پیش کی، درخواستگزار وکیل نےبتایاکہ اس کے بیٹے غضنفراسلم کا بائیس اپریل کو جسمانی ریمانڈ کے دوران پولیس مقابلہ ہوا، وہ مارا گیا۔ اس کا بھائی اس وقت شیخوپورہ جیل میں ہے،اسے بھی مارنے کا خدشہ ہے۔ چیف جسٹس نےکہا جذبانی باتیں نہ کریں، حقائق کے مطابق بات کریں، پولیس مقابلوں کے متعلق ایک ہی نوعیت کی ایف آئی آرزہوتی ہوں گی، لیکن اس میں تو ایسا نہیں، چیف جسٹس نےآئی جی سےکہا ایس ایچ او نے گزشتہ روزکہا تھا کہ ملزم کے ساتھیوں نے پولیس گاڑی پرفائرمارا، لیکن گولیاں نہیں ملیں، آئی جی نے جواب دیا مبینہ پولیس مقابلے سے تیرہ روز پہلے ملزم نے حملہ کرکے پولیس کانسٹیبل کو زخمی کیا تھا، ملزمان کی فائرنگ سے کئی پولیس افسران، اہلکار شہید بھی ہوچکے ہیں۔چیف جسٹس نے کہااس وقت جوسی سی ڈی کے مقابلوں کی لہر چلی ہے اورخوف ہراس ہے، ایک ایک دن میں پچاس پچاس درخواستیں آرہی ہیں، اس کا پولیس افسران کیساتھ میٹنگ کرکے جائزہ لیں۔ عدالت نے آئی جی اوردرخواستگزار وکیل کا موقف سن کر درخواست نمٹادی۔