افشاں رضوان: ماہ رمضان کی آمد سے قبل ہی اشیاء خوردونوش سمیت پھل سبزیوں کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔
انتظامیہ منافع خوروں کی من مانی کے سامنے بے بس نظر آرہی ہے اور رمضان سے پہلے ہی کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔ لاہور میں چند روز میں انڈے فی درجن 230 سے بڑھ کر 272 روپے کے ہوگئے۔بکرے کے گوشت کی قیمت 200 روپے اضافے سے 2500 روپے فی کلو تک پہنچ گئی۔گائے کا گوشت 1100 سے بڑھ کر 1400 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی کی قیمت 124 روپے سے بڑھ کر 155 اور 160 روپے تک جا پہنچی ہے۔
دوسری جانب آلو جو کہ سرکاری قیمت پر 55 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے، مارکیٹ میں 90 روپے کلو تک پہنچ چکا ہے۔ پیاز کی سرکاری قیمت 75 روپے ہے، جبکہ بازار میں یہ 120 روپے کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ٹماٹر کی سرکاری قیمت 40 روپے کلو ہے، مگر اوپن مارکیٹ میں اس کی قیمت 80 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے۔ ادرک کی سرکاری قیمت 355 روپے کلو ہے، جبکہ مارکیٹ میں یہ 440 روپے کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔لہسن کی سرکاری قیمت 580 روپے کلو ہے، مگر مارکیٹ میں اس کی قیمت 650 روپے کلو تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح مٹر کی سرکاری قیمت 50 روپے کلو اور شملہ مرچ کی سرکاری قیمت 55 روپے کلو ہے، لیکن دونوں اشیاء کی قیمتیں مارکیٹ میں بالترتیب 70 روپے اور 100 روپے کلو تک پہنچ گئی ہیں۔
پھلوں کی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں۔ کیلے کی سرکاری قیمت 260 روپے درجن ہے، مگر مارکیٹ میں یہ 310 روپے درجن میں فروخت ہو رہا ہے۔ سیب کی سرکاری قیمت 300 روپے کلو ہے، لیکن بازار میں یہ 400 روپے کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ امردو کی سرکاری قیمت 220 روپے کلو ہے، جبکہ مارکیٹ میں یہ 290 روپے کلو تک پہنچ چکا ہے۔انگور اور پپیتے کی قیمتیں بھی نمایاں طور پر بڑھ گئی ہیں۔ انگور کی سرکاری قیمت 280 روپے کلو اور پپیتے کی سرکاری قیمت 310 روپے کلو ہے، مگر مارکیٹ میں یہ دونوں اشیاء بالترتیب 430 روپے اور 430 روپے کلو میں فروخت ہو رہی ہیں۔کھجور کی قیمت بھی سرکاری نرخ سے زیادہ ہے۔ کھجور کی سرکاری قیمت 485 روپے کلو ہے، لیکن مارکیٹ میں یہ 520 روپے کلو میں فروخت ہو رہا ہ
ان قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے سبب شہریوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں اور حکومت سے فوری طور پر قیمتوں پر قابو پانے کی درخواست کی جا رہی ہے۔