ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ایمن سلیم کو کبریٰ خان اور گوہر رشید کے حق میں بولنا مہنگا پڑگیا

ایمن سلیم کو کبریٰ خان اور گوہر رشید کے حق میں بولنا مہنگا پڑگیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:  معروف اداکارہ و ماڈل ایمن سلیم نے کبریٰ خان اور گوہر رشید کو مکہ مکرمہ میں نکاح کرنے اور پھر پاکستان واپسی کے بعد خوب ڈانس اور دھوم دھڑکا کرنے پر ملنے والی تنقید کے بعد ناقدین کو کرارا جواب دے دیا۔

 کبریٰ خان اور گوہر رشید  کی  تقریبات کو جہاں سوشل میڈیا صارفین بے حد انجوائے کرتے نظر آئے وہیں کئی لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے نکاح کیلئے مکہ مکرمہ کا انتخاب کرکے بابرکت طریقے سے نئی زندگی کی شروعات کرنے کے بعد دیگر تقریبات میں ڈانس کرنے پر کبریٰ اور گوہر کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اس تنقید پر ایمن سلیم ناقدین کو کرارا جواب دیتے ہوئے کبریٰ اور گوہر کی حمایت میں سامنے آئیں۔

 سوشل میڈیا صارفین جو پہلے صرف کبریٰ اور گوہر پر تنقید کررہے تھے اب ایمن سلیم کا بیان سننے کے بعد ان کے خلاف بھی کھڑے نظر آرہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ،’کچھ بھی ہو غلط غلط ہے اور حرام حرام ہوتا ہے’۔ ایک اور صارف نے ایمن سلیم کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ،’پیاری ایمن، ہمارا دین کچھ حدود مقرر کرتا ہے، اگر آپ ان کو عبور کریں گے تو تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ آپ کا اپنا فیصلہ ہے کہ کیا آپ ایک مسلمان عورت ہیں؟'۔ دیگر صارفین  بھی  ایمن سلیم کے اس ردعمل پر  اپنے جذبات کی عکاسی کرتے نظر آرہے ہیں۔

یاد رہے کہ فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر ایمن سلیم نے اسٹوری اپڈیٹ کی جس میں انہوں نے کبریٰ خان اور گوہر رشید پر تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا کہ،’یہ غیر ضروری اخلاقی پولیسنگ، جو ہر بار ہوتی ہے جب کوئی اپنی زندگی اپنی شرائط پر جینے کی جرات کرتا ہے واقعی تھکا دینے والی ہے۔’

ایمن کا اپنے پیغام میں کہنا تھا کہ،’ایک مشہور جوڑے نے اپنے نکاح کو ایک مقدس جگہ پر سادگی سے انجام دیا اور پھر اپنی شادی کو اپنی مرضی کے مطابق منایا۔ اس سے آپ پر کیا اثر پڑا؟ لوگوں کے لیے دوسروں کی خوشی میں خوش ہونا اتنا مشکل کیوں ہے؟ کیوں سب خود کو جج سمجھ کر فیصلے سنانے لگتے ہیں؟’

اُن کا مزید کہنا تھا کہ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ دوسروں کے خلوص یا ایمان پر صرف اس بنیاد پر سوال اٹھائے کہ وہ اپنی خوشی کا اظہار کس طرح کرتے ہیں۔ ایمان ایک ذاتی معاملہ ہے اور خوشی منانا بھی ایک ذاتی فیصلہ ہے۔ اگر آپ دوسروں کی خوشی میں شریک نہیں ہو سکتے تو کم از کم ان کے معاملات میں دخل اندازی بھی نہ کریں۔’