سٹی42: پی آئی اے کے اثاثوں کی مجموعی مالیت کتنی ہے اور کتنے اثاثے فروخت کیے گئے؛ تفصیلات سامنے آگئیں۔
حکومت پاکستان نے پی آئی اے کے خریدار کونئے طیاروں کی خرید سمیت دیگر اہم معاملات پر رعایت دے دی ہے۔
آج وفاقی حکومت نے پاکستان ایئرلائن (پی آئی اے) کو نجی گروپ کو 135 ارب روپے میں فروخت کردیا ہے جبکہ فروخت شدہ ایئرلائن کے اثاثوں کی مجموعی مالیت اس سے کہیں زیادہ بتائی جا رہی ہے اور اس حوالے سے تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔حکومت پاکستان نے پی آئی اے کی 5 جائیدادیں تمام جہاز، ملکی و بین الاقوامی روٹس اور آپریشنزکے ساتھ نجکاری کے لیے پیش کیے تھے۔
عارف حبیب گروپ کو فروخت کی گئی پی آئی اے کے اثاثوں کی مجموعی مالیت کا نجی سطح پر اندازہ 150 سے 190 ارب روپے کے قریب لگایا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نجکاری کمیشن کے مطابق پی آئی اے کے مجموعی اثاثے 150 سے 190 ارب روپے کے درمیان ہیں۔ پاکستان ایئرلائن کے پاس 34 طیارے ہیں، جن میں سے 18 طیارے اس وقت آپریشنل ہیں اور 16 طیارے فی الھال قابلِ استعمال نہین ہیں اور گراؤنڈڈ ہیں، پی آئی اے 45 بین الاقوامی روٹس پر اور 25 ملکی روٹس پر روزانہ 70 پروازیں چلاتی ہے۔
نجکاری کمیشن کے اعداد وشمار میں بتایا گیا کہ پی آئی اے کے ملازمین کی تعداد 9 ہزار 500 ہے جنہیں ایک سال تک ملازمت کا تحفظ دینا لازمی ہوگا ۔ اس وقت پی آئی اے کا یومیہ کلیکشن 600 سے 800 ملین روپے کے درمیان ہے۔
حکومت نے پی آئی اے کے 75 فیصدحصص فروخت کئے ہیں جبکہ کامیاب بولی دہندہ کو باقی 25 فیصدحصص خریدنے کے لیے بھی موقع دیا جائے گا اور 90 دن کی مہلت دی جائے گی۔
حکومت نے پی آئی اے کے کامیاب خریدار کو متعدد اہم سہولیات دی ہیں، جن کے مطابق نئے جہازوں کی خریداری پر سیلز ٹیکس ادا نہیں کرنا ہوگا، پی آئی اے کے ایف بی آر اور ایوی ایشن واجبات کے خریدار ادا نہیں کرے گا۔ اس وقت تک پی آئی اے کو ایف بی آر کے 26 ارب روپے اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کے 7 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔
عارف حبیب کنسورشیم کو کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں قومی ایئرلائن کے دفاتر سمیت کل 5 جائیدادیں فروخت کی گئی ہیں۔
پی آئی اے کے خریدار عارف حبیب کنسورشیم فوری طور پر حکومت پاکستان کو 10 ارب 12 کروڑ روپے ادا کرے گا جبکہ بقایا رقم پی آئی اے کی بہتری پر ہی خرچ کی جائے گی۔
خیال رہے کہ عارف حبیب کنسورشیم نے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے منعقد کی گئی بولی میں 135 ارب روپے کی کامیابی بولی دی اور قومی ایئرلائن خرید لی ہے۔اس بولی میں لکی سیمنٹ کنسورشیم اور ائیر بلیو بھی شامل تھے ۔ ائیر بلیو ائیر لائن پہلے مرحلے میں ہی باہر ہوگئی جبکہ لکی سیمنٹ اور عارف حبیب کنسورشیم کا اچھامقابلہ رہا ۔ لکی سیمنٹ نے 134 ارب روپے کی بولی لگائی جبکہ عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی بولی دے کرپی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز کو خرید لیا ۔
عارف حبیب نے پی آئی اے کی کامیاب بولی کے بعد کہا کہ طیاروں کی تعداد 65 تک لے کر جائیں گے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔