ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں موٹر وہیکلز ترمیمی ایکٹ 2025 کے تحت ای چالان کی عدم ادائیگی پر گاڑیوں کی ضبطگی اور نیلامی کے اختیار کو چیلنج کر دیا گیا۔ عدالت نے پنجاب حکومت، سیکرٹری ہوم، آئی جی پنجاب پولیس، سیکرٹری ٹرانسپورٹ، چیف ٹریفک آفیسر اور سیف سٹی اتھارٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مزمل اختر شبیر نے شہری فلک شیر کی دائر کردہ درخواست پر حکم جاری کیا۔ درخواست گزار کی جانب سے مظہر امین چدھڑ ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ موٹر وہیکلز ایکٹ میں 30 مئی 2025 کو ترمیم کی گئی، جس کے تحت ای چالان کو یکم اکتوبر 2018 سے قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔ ترمیم کے مطابق اگر ایک ماہ کے اندر ای چالان کی ادائیگی نہ کی جائے تو متعلقہ گاڑی کو ضبط کرنے اور بعد ازاں نیلام کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے۔
وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 2018 سے ای چالان کو ماضی سے لاگو کرنا غیر قانونی اور آئین کے منافی ہے، کیونکہ اس طرح قانون کو ماضی پر نافذ کیا جا رہا ہے، جو آئین کے آرٹیکل 12 سے متصادم ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کسی شہری کو محض جرمانے کی عدم ادائیگی پر اس کے حقِ روزگار سے محروم نہیں کیا جا سکتا، جبکہ کسی ڈرائیور کی غلطی کی سزا گاڑی کے مالک کو دینا بھی انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 کے سیکشن 116 میں کی گئی ترمیم کو کالعدم قرار دیا جائے، جبکہ ای چالان کے تحت جرمانوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں گاڑیوں کی ضبطگی اور نیلامی کا اختیار بھی غیر آئینی قرار دے کر ختم کیا جائے۔عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا، جبکہ کیس کی مزید سماعت بعد کی تاریخ تک ملتوی کر دی گئی۔