ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا کام کی جگہ خواتین کوہراساں کرنے سے متعلق بڑا فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ کا کام کی جگہ خواتین کوہراساں کرنے سے متعلق بڑا فیصلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف:لاہور ہائیکورٹ کا کام کی جگہ خواتین کوہراساں کرنے سے متعلق بڑا فیصلہ, ہراساں کرنے کی جگہ صرف آفس بلڈنگ تک محدود نہیں , ہراسانی سے متعلق درج ایف آئی آر محتسب کا اختیار محدود نہیں کرتی.

لاہور ہائیکورٹ کا کہنا فیصلے میں کہنا تھا کہ قانون میں کام کی جگہ کی تعریف بہت وسیع ہے، جسٹس راحیل کامران شیخ نے شہری عمر شہزاد کی درخواست پر 16 صفحات کا تحریری حکم جاری کیا۔

شہری نےخاتون محتسب اور گورنر پنجاب کے فیصلوں کیخلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیاتھا، پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان نے دلائل دئیے۔ 

فیصلہ میں کہا گیا کہ کام کی جگہ اور ہراسانی کی تعریف کو اکٹھا پڑھا جائے گا، قانون میں ہراسانی کی تعریف سے عیاں ہوتا ہے کہ یہ صرف آفس کی عمارت تک محدود نہیں ،دو لوگوں کا محض کولیک ہونا کافی نہیں۔

ہمارے کلچر کی حقیقت ہے کہ بدنامی کے ڈر سے خواتین ہراسگی رپورٹ نہیں کرتیں ،متاثرہ خاتون کی خاموشی ،جلد رپورٹ نہ کرنےکو خاتون کیخلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔

اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل عثمان خان نے گورنر ،صوبائی محتسب کے فیصلوں کا دفاع کیا ،  لاء افسر کا اپنےموقف میں کہنا تھا کہ محتسب ،گورنر کے فیصلے قانون کے مطابق ہیں ، عدالت مداخلت نہیں کرسکتی ،درخواست گزار صوبائی محتسب کے فیصلوں میں کسی قانونی سقم کی نشاندھی نہیں کرسکا۔