( در نایاب ) پی ایچ اے میں دو اہم عہدیداروں میں کورونا وائرس کی تشخیص کے باوجود فیلڈ سٹاف کیلئے کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی نہ بنایا جاسکا، پی ایچ اے کے غریب اور جفاکش مالی بغیر ماسک اور گلوز فیلڈ میں باغبانی پر مامور ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے غریب اور جفاکش مالی بغیر ماسک، گلوز فیلڈ میں باغبانی پر مامور ہیں۔ مین بلیوارڈ گلبرگ پوش علاقے کی گرین بیلٹوں پر مالی بغیر حفاظتی اقدمات کام کرنے پر مجبور ہیں۔
مالیوں کو گلوز نہیں دیے گئے اور نہ ہی افسران فیلڈ سٹاف کے ایس او پیز پر عملدرآمد کو چیک کرنے نکلتا ہے۔ پی ایچ اے کے عہدیداروں میں کسرونا وائرس کی تصدیق کے بعد دیگر افسران گھروں میں بیٹھ گئے ہیں۔
فیلڈ سٹاف کو بغیر حفاظتی انتظامات حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ فیلڈ سٹاف سے حفاظتی سامان مہیا کرنے کے بغیر کام لینا حکومتی ایس او پیز کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
یاد رہے پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے اہم عہدے دار میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ پی ایچ اے کی عہدیدار نے سترہ اپریل کو پرائیویٹ لیبارٹری سے ٹیسٹ کرایا تھا۔ انیس اپریل کو ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آنے پر اہم عہدیدار خودساختہ قرنطینہ میں چلے گئے۔
چند روز قبل ڈپٹی ڈائریکٹر ایل ڈی اے اور ان کے بھائی میں کورونا کی علامات ظاہر ہوئی تھیں، ایل ڈی اے ذرائع کے مطابق افسروملازمین کو دفتر بلانے کا فیصلہ ایڈیشنل ڈی جی ہیڈکوارٹر اپنے کندھوں سے اتارکر ڈی جی پرڈالنے لگے ۔
مختلف سرکاری اداروں کی جانب سے ایل ڈی اے میں حاضری کم رکھنے کی تجویز دی جاتی رہی، لازمی سروس ایکٹ کا حصہ نہ ہونے کے باوجود ایل ڈی اے کو پبلک کے لیے بند اور افسران کے لیے کھلا رکھا گیا۔