سٹی 42 : فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کی اجازت دینے کا کیس، آئینی بنچ نے حکومتی انٹرا کورٹ اپیلوں کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے 7 مئی کو انٹرا کورٹ اپیلیں منظور کی تھیں، سپریم کورٹ نے ملٹری ٹرائل ختم کرنے کا پانچ ججز کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا۔
جسٹس امین الدین خان نے 68 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔ جسٹس محمد علی مظہر نے 47 صفحات کا اضافی نوٹ بھی لکھا۔ جسٹس امین،جسٹس حسن رضوی،جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال نے اضافی نوٹ سے اتفاق کیا۔
جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نعیم افغان نے اختلافی نوٹ تحریر کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے انٹرا کورٹ اپیلوں میں ملٹری ٹرائل کی اجازت دی تھی۔
سپریم کورٹ نے ملٹری کورٹ کے سزا یافتہ ملزمان کو اپیل کا حق دینے کا حکم دے دیا۔ جاری کردہ فیصلے کے مطابق اپیل کا حق دینے کیلئے 45 دن میں حکومت قانون سازی کرے۔
جاری کردہ فیصلے کے مطابق آرمی ایکٹ کی دفعات کو یکسر کالعدم قرار نہیں دیا جاسکتا، آرمی ایکٹ میں بنیادی ضابطہ موجود ہے مگر عام شہریوں کیلئے مناسب اپیل کے فورم کا فقدان ہے۔ فوجی عدالتوں سے سزایافتہ ملزمان کو آزادانہ اپیل کا حق دینے کیلئے قانون سازی ہونی چاہیے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کیس کے دوران اٹارنی جنرل نے کئی بار حق اپیل پر حکومتی ہدایات کیلئے وقت لیا، 5 مئی کی آخری سماعت پر بھی اٹارنی جنرل نے اپیل کے حق کی بات کی۔ اٹارنی جنرل نے کہا عدالت ہدایت دے تو پارلیمنٹ میں قانون سازی ہو سکتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا عدالتی حکم کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔
