سٹی42:، پی ٹی آئی کے سینئیر رہنما کو طویل عرصہ سے چل رہے مقدمہ میں لمبی قید کی سزا ہو گئی۔
قومی اسمبلی کے سابق رکن اور پی ٹی آئی کے سینئیر رہنما جمشید دستی کو جعلی ڈگری کیس میں 7 سال قید کی سزا سنادی گئی۔ جمشید دستی نے جعلی ڈگری قومی اسمبلی کا الیکشن لرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو پیش کی تھی۔ جمشید دستی کو دوسرے سنگین جرائم میں بھی قید کی سزائین سنائی گئی ہیں۔ مجموعی طور پر اسے 17 سال قید ہوئی ہے۔
جمشید دستی کی ڈگری جعلی ہونے کے متعلق ان کے ھلقہ سے کسی ووٹر نے شکایت کی تھی۔ اور سپیکر ایاز صادق نے بھی ڈگری جعلی ہونے کے شواہد ملنے پر ان کو نا اہل قرار دینے کے لئے ریفرنس الیکشن کمشن کو بھیجا تھا۔ تحقیقات کے بعد الیکشن کمشن نے ان کی ڈگری کو جعلی پایا تھا اور انہیں کسی منتخب ادارہ کی رکنیت کے لئے نا اہل قرار دے دیا تھا۔
آج جمشید دستی کو جعلی ڈگری کیس میں 7 سال قید کی سزا سنادی گئی۔ ان پر جعلی ڈگری کے ذریعہ دھوکا دینے کا مقدمہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان کی عدالت میں چل رہا تھا۔ طویل سماعت کے بعد آج اس کیس کا فیصلہ سنایا گیا۔ جمشید دستی کے خلاف الیکشن کمیشن نے جعلی ڈگری کا کیس دائر کر رکھا تھا۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ملتان علی نواز نے جمشید دستی کو مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنا دی
دفعہ 82 کے تحت 3 سال ، دفعہ 420 کے تحت 2 سال ، دفعہ 468 کے تحت 7 سال ، 471 کے تحت 2 سال ، دفعہ 200 کے تحت 3 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی ہے
بارہا عدالتی حکم کے باوجود جمشید دستی عدالت میں پیش نہیں ہوئے تو آج عدالت نے مجرم کی غیر موجودگی میں اسے سزا سنا دی۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے ایڈوکیٹ مہر حسیب قادر نے فائنل دلائل پیش کیے ۔جمشید دستی نے 2008 میں مدرسے کی بی اے کی ڈگری پر الیکشن میں حصہ لیا تھا,استغاثہ نے بتایا کہ دستی کی پیش کردہ کسی بھی سند کا ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے پاس ریکارڈ موجود نہیں,الیکشن کمیشن کو شکایت ہے کہ دستی نے آرٹیکل 62 اور 63 کی بھی خلاف ورزی کی۔
مجرم جمشید دستی نے مظفرگڑھ کے حلقہ این اے 178 سے الیکشن لڑا تھا اور آسانی سے جیت گیا تھا۔

جمشید دستی نااہل
سابق رکن قومی اسمبلی (ایم این اے) جمشید دستی کی بی اے کی جعلی ڈگری کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے 15 جولائی کو انہیں نا اہل قرار دے دیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے جمشید دستی کی بی اے کی دگری جعلی ہونے کے متعلق قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس کی طویل سماعتیں کی تھیں۔ پھر 15 جولائی کو الیکشن کمیشن نے ا ریفرنس کو منظور کرتے ہوئےفیصلہ جاری کردیا۔ جمشید دستی کی نااہلی کی 2 درخواستیں الیکشن کمیشن نے منظور کیں۔ دوسری درخواست کی شہری کی طرف سےتھی۔
الیکشن کمیشن نے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کی تعلیمی اسناد جعلی قرار دے دیں تو ان کے خلاف جعلی ڈگری کے زریعہ دھوکا دینے کا مقدمہ بھی بن گیا۔
مئی 2025 میں الیکشن کمیشن میں ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے رکن قومی اسمبلی جمشید دستی کے خلاف اثاثوں اور واجبات سے متعلق امیر اکبر کی درخواست پر سماعت کی تھی۔
ممبر خیبرپختونخوا نے استفسار کیا کہ کیا جمشید دستی کی ایسی جائیداد ہے جس سے الیکشن کمیشن کو آگاہ نہیں کیا گیا؟۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جمشید دستی نے اپنے کاغذات نامزدگی پر ایف اے لکھا ہے، جب کہ انہوں نے میٹرک اور ایف اے بھی نہیں کیا، بہاولپور یونیورسٹی نے ان کی بی اے اور ایف اے کی اسناد کو جعلی قرار دیا، انہوں نے بہاولپور بورڑ سے میٹرک کرنے کا دعویٰ کیا لیکن وہ بھی جعلی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ جمشید دستی نے ابھی جمشید دستی نے جواب میں میٹرک کراچی بورڈ کی ایک سند لگا دی ہے جو مزید جعلسازی ہے۔ جس پر ممبر خیبرپختونخوا نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس نااہل کرنے کے اختیارات ہیں۔
تمام تعلیمی سرٹیفیکیٹ اور بی اے کی ڈگری جعلی ہونے کے باوجود جمشید دستی نے الیکشن کمیشن کے نا اہل قرار دینے کے فیصلے کو تسلیم نہیں کیا تھا اور لاہور ہائی کورٹ میں پیٹیشن دائر کر کے این اے 175 مظفر گڑھ میں ضمنی الیکشن ہی رکوا دیا تھا۔
لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما جمشید دستی کی درخواست پر این اے 175 میں ضمنی انتخاب رکوادیا تھا اور ضمنی الیکشن کا شیدول معطل کر دیا تھا۔ یہ کام 30 جولائی کو ہوا تھا۔
الیکشن کمیشن نے 15 جولائی کو جمشید دستی کی تعلیمی اسناد کو جعلی قرار دیتے ہوئے انہیں قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا اور مظفر گڑھ کے عوام کو قومی اسمبلی میں اپنا نمائندہ بھیجنے کا موقع دینے کے لئے جمشید دستی کی نا اہلی سے خالی ہونے والی نشست پر ضمنی الیکشن کا شیڈول طریقہ کار کے مطابق جاری کر دیا تھا۔
جمشید دستی کے خلاف اسپیکر قومی اسمبلی نے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجا تھا، الیکشن کمیشن نے جمشید دستی کی نااہلی کی 2 درخواستیں منظور کرلی تھیں۔