ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

افغانیوں کے نکلنے کی برکت، شہریوں کیلئےبیٹھے بٹھائے پراپرٹی کی قیمتیں کم ہو گئیں

Afghani illegal immigrants, property prices, city42, Quetta, Afghan refuges
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: غیر قانونی افغانیوں کو نکالنے سے عام پاکستانیوں کی لاٹری لگ گئی۔ جن عام شہریوں کو اس انہونی کا پتہ چل چکا ہے، وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے اور سہانے مستقبل کے خواب آنکھوں میں سجانے لگے ہیں۔

غیر قانونی افغانیوں کو نکالنے کے نتیجہ میں بہت سی اچھی چیزیں ہو رہی ہیں، سب سے اچھی تبدیلی یہ ہوئی کہ پراپرٹی کی قیمت آسمان پر چڑھی ہوئی قیمتیں کم ہو کر عام پاکستانیوں کی پہنچ میں آ گئی ہیں۔ افغان مہاجرین کے انخلا کے اثرات شہر کی پراپرٹی مارکیٹ پر نمایاں ہونے لگے۔

 کوئٹہ کے نواحی علاقوں مشرقی بائی پاس، سیٹلائٹ ٹاؤن، نواکلی اور پشتون آبادمیں افغانی بڑی تعداد میں گزشتہ  چالیس سال سے مکانات خرید کر رہ رہے تھے۔ 

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے فیصلے کے بعد افغانی  مکانات فروخت کرکے واپس جا  رہے ہیں۔

 جن علاقوں میں افغانی زیادہ آباد تھے وہاں پراپرٹی کی قیمتیں پہلے آسمان پر پہنچی ہوئی تھیں کیونکہ یہ افغانی منہ مانگی قیمت پر زمین خرید لیتے تھے۔ ان کی آمدن کے ذرائع نامعلوم تھے، ان کی وجہ سے پراپرٹی کی قیمتین شہر بھر میں بڑھی ہوئی تھیں۔ اب افغانیوں کو پاکستان سے واپس بھیجے جانے کا عام شہریوں کو یہ فائدہ ہو رہا ہے کہ پراپرٹی کی قیمت  70 سے 80 فیصد گرگئی۔ یہ عام شہری علاقے کا حال ہے لیکن کوئٹہ کے  مشرقی بائی پاس، سریاب روڈ، خروٹ آباد، پشتون آباد میں پراپرٹی کی قیمت پر 80 سے 90 فیصد اثر  پڑا ہے۔

 پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کے گنجان وسطی حصے میں پراپرٹی کی قیمت کم تو نہیں ہوئی لیکن خرید و فروخت نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے جس کے باعث پراپرٹی ڈیلرز  شدید پریشانی کا شکار  ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قابل فروخت جائیدادیں وافر دستیاب ہونے کے نتیجہ میں شہر کے قدیم گنجان علاقوں مین بھی قیمتیں آخر کار کم ہوں گی۔

عام شہری اس صورتحال سے خوش ہیں لیکن پراپرٹی میں انویسٹمنٹ کرنے کے پرانے عادی کھلاڑی راتوں رات  لکھ پتی سے ککھ پتی بھی ہو رہے ہیں۔ 

 پراپرٹی کو انڈسٹری تصور کر کے انویسٹمنٹ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے پراپرٹی سیکٹر کو ریلیف پیکیج نہ دیا تو کوئٹہ میں یہ شعبہ  جمود کا شکار ہو سکتا ہے جس کے اثرات مجموعی معیشت پر بھی پڑیں گے۔

بلوچستان میں افغانیوں کے 10 کیمپوں کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے اور ان کیمپوں میں مقیم 85 ہزار افغانوں کو واپس بجھوایا دیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ ہزار ہا غیر قانونی افغانی پکڑ دھکڑ بڑھنے کی وجہ سے خاموشی سے نکل کر افغانستان واپس جا رہے ہیں۔ ان کی صحیح گنتی کو کو نہیں ملعوم۔

 چند روز قبل  تک کوئٹہ شہر سے غیر قانونی طور پر مقیم 3 ہزار 888 مہاجرین کو گرفتارکیاگیا تھا۔