بدقسمت طیارے پی کے 8303 میں سوار اہم ‍شخصیات


سٹی42: ایک طرف کرونا کی تباہ کاریوں سے ملک بھر میں خوف وہراس تودوسری جانب طیارہ حادثہ ہر آنکھ نم کرگیا، کراچی میں پیش آئے طیارے حادثے میں کئی سروں سے سایہ چھن گیا، کوئی ماں کی شفقت سے محروم ہوا تو کسی کا بھائی بچھڑ گیا، جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور سے کراچی جانے والاقومی ائیر لائن پی آئی اے کا مسافر طیارہ گرکر تباہ ہوگیا.طیارہ لاہور سے کراچی جا رہا تھا، لینڈنگ سے پہلے بے قابو ہوا،  طیارے میں 91 مسافر اور عملے کے7 ارکان سوار تھے۔ کراچی ائیر پورٹ کے قریب لینڈنگ کرتے مسافر طیارہ تین،چار گھر کے ساتھ ٹکرانے کے بعد رہائشی آبادی میں جا گرا،پولیس، رینجرز اور سی اے اے کی ٹیمیں حادثے کے مقام پر پہنچ گئیں.

طیارے میں کئی اہم شخصیات بھی سوار تھیں، ٹوئنٹی فورنیوزکے سینئرڈائریکٹر پروگرامنگ انصار نقوی بھی طیارے میں سوار تھے، طیارے میں بینک آف پنجاب کے صدر ظفر مسعود معجزانہ طور پر محفوظ رہے، انہیں اسپتال منتقل کردیا گیا، ظفر مسعود طیارے کی پہلی لائن کی سیٹ پر سوار تھے، ظفر مسعود نے فون پر اپنی والدہ سے گفتگو کی اور اپنی خیریت بتائی،اسپتال حکام کے مطابق ظفر مسعود کی کولہے اور ہسلی کی ہڈی فریکچر ہوئی، جلنے کے کوئی نشان نہیں جبکہ انہیں معمولی زخم بھی آئے۔طیارے میں پنجاب حکومت کے سیکریٹری خالد شیردل بھی سوار تھے، معروف ماڈل زاراعابد بھی حادثےکاشکارہونےوالے طیارے میں سوارتھیں۔زارا عابد کے تایا چندروز قبل لاہور میں انتقال کرگئے تھے،جبکہ وہ تعزیت کے بعد واپس کراچی جارہی تھیں.

باقی مسافروں میں فتح اللہ ،رحیم زین ،کاشف افضال،شبیر احمد،رضوان احمد،بلال احمد،یاسمین اقبانی ،فروا علی ،ارمغان علی،فوزیہ ،محمد ایس اسلم،محمد عطاء اللہ،رائےعطاء اللہ،نیلم برکت علی،فریحہ بشارت،مرزا بیگ،حفضہ چودھری،مہرین دانش،بیگم دلشاد،احمد دلشاد،سیمن،قراۃ العین،عنایہ فاروقی،شہریارفضل،کریم ،صائمہ عمران ،حذیفہ عمران ،احمد اشتیاق،مسزخالدہ، احمد خان،رضوانہ خاتون،نازیہ ،ظفر ،سعد محمود،طاہرہ محمود،مبشرمحمد،شعیب ،عثمان ،صدیق ،ابراہیم ،زبیر،سلیم ،زوہیب،اسامہ،علوینہ ،کریم نوید،شہناز،مشی قادر،فرحان قادر،وحیدہ رحمان،فضل رحمن،آصف،عمار،فریال رسول شامل تھے۔

 مزید مسافروں میں ردہ رفاقت ،عبدالراہی ،محمد شہیر،محمد شبیر ،کرن شاہد،اقراء شاہد،سید دانش،ریان ،خالد،کریم ،عائشہ علی،محمد اےسعید،دانش،محمدطاہر،نوشین طاہر،محمدطارق،مہان طارق ،محمد وقاص ،ندا وقاص ،آئمہ وقاص ،وقاص یونس ،حمزہ یونس ،کریم زاہد ،فاطمتہ الزہرہ، عارف زین ،عابد ،زارہ ،ملک محمدذیشان ،نفیس زہرہ شامل تھے۔

لینڈنگ سے کچھ دیر پہلے پائلٹ کی ٹاور سے گفتگو ہوئی، پائلٹ نے کہا کہ لینڈنگ کے لئے تیار ہوں، جس پر ٹاور سے جواب آیا، اوکے. پائلٹ نے کہا کہ انجن میں خرابی آ گئی، پھر رابطہ کٹ گیا،چند منٹ بعد پائلٹ کی مے ڈے ، مے ڈے کی آواز آئی.

جہاز گرنے سے متعلق عینی ‍شاہدین نے بتایا کہ طیارے کے ایک انجن میں آ گ لگی ہوئی تھی اور دھواں نکل رہا تھا ، اتنی دیر میں ایک زور دار دھماکے کی آواز آئی ،جس کے بعد وہ اچانک ہی نیچے گر گیا ۔