ایف پی سی سی آئی صدر میاں انجم اور ڈی جی سندھ رینجر کے درمیان اہم گفتگو

ایف پی سی سی آئی صدر میاں انجم اور ڈی جی سندھ رینجر کے درمیان اہم گفتگو

حسن علی:  فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں انجم نثار سے ڈی جی رینجرز سندھ جنرل عمر احمد بخاری کی ویڈیو لنک کے ذریعے کرونا وائرس اور معاشی سرگرمیوں پر بات چیت.

ایف پی سی سی آئی کے صدر میاں انجم نثار اور ڈی جی سندھ رینجر جنرل عمر احمد بخاری کے درمیان کاروباری طبقہ کے مسائل پر ویڈیو لنک کے ذریعے ایک میٹنگ منعقد ہوئی۔  میاں انجم نثار نے اس موقع پر کہا کہ ہم بحیثیت بزنس کمیوٹنی آپ کی کارکردگی پر اطمینان اور سکون کا سانس لیتے ہیں جس طرح سے سندھ رینجر نے امن وامان خاص طور پر کراچی کا امن قائم کیا ہے۔ انتہاہی قابل ستائش ہے۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے مزید کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران ساری مارکیٹیں بند تھیں اور پولیس کی نفری بھی لاک ڈاؤں کے لئے شاہراہوں پر موجود تھی لیکن اس کے باوجود بھی کسی مارکیٹ میں ڈکیتی یا شٹر توڑنے کی کاروائی دیکھائی نہیں دی۔ یہ لاء اینڈ آرڈر قائم کرنے والی ایجنسیوں کی کاوششوں کے باعث ممکن ہوا۔عام طور پر یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ جب تہوار آتے ہیں خاص طور پر رمضان اور عید کا موقع آتا ہے تو جرائم خاص طور پر اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوجاتا ہے اور یہی چیز کچھ دنوں سے دیکھائی دے رہی ہے۔

میاں انجم نثار نے کہا کہ عوام پاک فوج اور رینجر کی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں آپ کی عزت دل سے کی جاتی ہے۔ سمجھتا ہوں کہ اگر لاک ڈاؤن کرانے یا بازاروں میں SOPs پر عمل کرانے کے لئے آپ کی خدمات لی جائیں تو یقینا کامیابی ہوگی اور لوگ آپ کی بات پر عمل بھی کریں گے۔انھوں نے کہا کہ اگلے چند دنوں میں امید ہے کہ مارکیٹیں اور بازار کھول دیے جائیں گے اس لئے SOP پر عمل کرانا انتہاہی لازمی اور ضروری ہوگا۔

میاں انجم نثار صدر ایف پی سی سی آئی نے بتایا کہ گزشتہ روز میں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ وزیر اعظم صاحب سے ملاقات کی اور بزنس کمیونٹی کے درپیش مسائل سے عمران خان صاحب کو آگاہ کیا۔ وزیر اعظم سمجھتے ہیں کہ ہمارہ موقف بھی درست ہے کہ اس وقت پاکستان کی صنعت کے پاس غیر ملکی کمپنیوں کے ایکسپورٹ آرڈر موجود ہیں اگر ان کو پورا نہ کیا گیا تو سیزن نکل جائے گا اور پھر ہمیں برآمدات کی کمی کی صورت میں بھاری نقصان کا سامنہ کرنا ہوگا۔ اس لئے بزنس کیونٹی خاص طور پر FPCCI برآمدی صنعت کو کھولنے کی بات کرتا ہے۔جب پاکستان میں یہ وباء کے پھیلنے کا خدشہ پیدار ہوا اور حکومت نے لاک ڈاؤن کی طرف جانے کا اشارہ کیا تو میں نے معاشی سرگرمیوں اور صنعت و تجارت کو درپیش مسائل کے حل کے لئے فوری طور پر ایک ہیلپ ڈیسک FPCCI کے تمام دفاتر میں قائم کردی جس کی وجہ سے ہم نے کاروبار کو پیدا ہونے والے مسائل کو فوری حل کیا۔

صدر میاں انجم نثار نے یہ بھی بتایا کہ انھوں ایف پی سی سی آئی کی طرف سے وزیر اعظم صاحب کو دو کروڑ روپے کی امداد بھی دی تاکہ وزیر اعظم کے وژن کے مطابق اس کرونا سے متاثرہ غریب خاندانوں کی مدد کی جاسکے۔

جنرل عمر احمد بخاری نے بزنس کمیونٹی کے مسائل سن کر کہا کہ یہ ویڈیو لنک بحیثیت سربراہ سندھ رینجر بہت اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں جو مسائل اجاگر ہوئے ان کی نوعیت براہ راست پاکستان کی معاشی ترقی سے ہے۔ ہم کراچی کے امن وامان پر خاص توجہ اور نظر رکھتے ہیں کیونکہ کراچی کی ترقی ملک کی ترقی ہے اور کراچی کی ترقی کا سہراہ بزنس کمیونٹی کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا سندھ میں جب سے تعینات ہوا تو دیکھا ہے کہ یہاں کہ بزنس مین سماجی اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور میری اولین ترجیع بھی یہی ہے کہ کراچی کی معاشی سرگرمیاں جاری رہیں۔ جہاں تک اسٹریٹ کرائم کا تعلق ہے تو ابھی کرمنل کو مواقع نہیں مل رہے لیکن حالات بدلتے ہی جب بھی لاک ڈاؤن ختم ہوگا لوگ گھروں سے باہر نکلیں گے تو یہ بھی سرگرم ہونے کی کوشش کریں گے.

ڈی جی رینجر جنرل عمر احمد بخاری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ لاک ڈاؤں نرم کرنے کے فوائد بھی ہیں اور نقصانات بھی کیونکہ ہمارے معاشرہ میں کچھ عادات ایسی ہیں کہ اگر لاک ڈاؤں کا دورانیہ کم کیا گیا تو لوگ اس کو تفریح سمجھ کر باہر نکلیں گے جس کی وجہ سے کرونا کی وبا ء اور متاثرہ افراد میں اضافہ کا خدشہ ہے۔