فیکٹریوں میں کا م کرنیوالوں کیلئے اہم خبر

فیکٹریوں میں کا م کرنیوالوں کیلئے اہم خبر

(سعود بٹ) فیکٹری ملازمین کی رجسٹریشن کےحوالےسے حکومت پنجاب نے اہم فیصلہ کیا،صوبائی محکمہ لیبر نےرجسٹریشن کے قانون میں ترمیم پر کام شروع کردیا۔

محکمہ لیبر کےترمیمی مسودہ کے مطابق فیکٹری ملازمین کی رجسٹریشن مالکان کی بجائے ملازم خود کرانےکا اہل ہو گا، محکمہ لیبر قانون میں ترمیم کی سمری وزیراعلی پنجاب کو بھجوائےگا جس کے بعد بل اسمبلی میں پیش کیا جائےگا،فیکٹری مالکان لیبرکے حوالے سے درست معلومات فراہم نہیں کرتے جس سے مزدوروں کا استحصال ہوتا رہا،،پنجاب میں 50 لاکھ سے زائد ورکرزمگر رجسٹرڈ کی تعداد 11 لاکھ 50 ہزار ہے،صحت سہولیات کا سوشل سکیورٹی کارڈ صرف 4 لاکھ 75 ہزارملازمین کے پاس موجود ہے، رجسٹریشن کےقانون میں تبدیلی فیکٹری ملازمین کی حالت بدلنے میں اہم ثابت ہوگا۔

واضح رہے کہ  پاکستان میں مزدور آج تک اپنے بنیادی حقوق سےمحروم ہیں۔حکومتیں آئیں اور گئیں مگر معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کہلوانے والے فیکٹری مزدوروں کے مسائل حل نہ ہوئے،صوبائی وزیر لیبر انصر مجید خان کے مطابق گزشتہ 20 سال میں محکمہ کی ڈیجیٹلائزیشن کیلئے کوئی اقدام نہ کیا گیا جس کے باعث مزدوروں کے مسائل میں اضافہ ہوا۔انصر مجید خان نے بتایا کہ فیکٹری مالکان جان بوجھ کرمزدوروں کی درست معلومات فراہم نہیں کرتے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ ادارے کے قوانین میں ترمیم کی جارہی ہے، کوشش ہے کہ مزدور آئندہ اپنی محکمانہ رجسٹریشن خود کروانے کے قابل ہوں۔

حکومت کی جانب سے کم ازکم اجرت 17500 رکھی گئی ہے لیکن محکمہ لیبر کے ذرائع کے مطابق فیکٹری ملازمین کی بڑی تعداد کو آج تک اجرت صرف 9 ہزار سے 12 ہزار کے درمیان ہی مل رہی ہے۔ دوسری طرف کورونا وائرس لاک ڈائون،فیکٹریوں، کارخانوں اور پرائیویٹ اداروں سے ملازمین کی برطرفیوں کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا.ایڈوکیٹ اشتیاق احمد کا کہناتھا کہ پنجاب میں لاک ڈائون کی وجہ سے صنعتی اداروں، کارخانہ مالکان نے مزدوروں کو ملازمت سے نکال دیا، پنجاب میں صنعتی اداروں نے مزدوروں کی تنخواہوں میں بھی کمی کردی، سندھ اور بلوچستان حکومتوں نے مزدوروں کی ملازمت بچانے کیلئے اقدامات کیے، پنجاب میں برطرفیوں سے لاکھوں مزدوروں کو مالی مشکلات کا سامنا ہے.